انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اتنا درست نشانہ کیسے لگایا۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے کئی برسوں تک تہران کے ٹریفک کیمرا سسٹم اور موبائل نیٹ ورک میں گہری سیندھ (دراندازی کی ) لگائی تھی۔
کیسے ہوا آپریشن ؟
رپورٹ کے مطابق یہ کوئی اچانک کی گئی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک طویل اور منصوبہ بند مہم تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد اور اس کی سائبر یونٹ ' یونٹ 8200 ' نے مل کر تہران کے ڈیجیٹل ڈھانچے تک رسائی حاصل کی۔
- ٹریفک کیمروں کی لائیو فیڈ ایکسیس (براہ راست جھلکیاں حاصل )کی گئی۔
- تصاویر کو ' ان کرپٹ ' (خفیہ بنا ) کر باہری سرور پر بھیجا گیا۔
- موبائل نیٹ ورک ڈیٹا سے لوکیشن کو ٹریکنگ کی گئی۔
- سکیورٹی عملے کی روزمرہ عادات اور نقل و حرکت کے انداز کو سمجھا گیا۔
- آہستہ آہستہ ایک ' پیٹرن آف لائف ' تیار کیا گیا(روزمرہ سرگرمیوں کا مکمل ڈیجیٹل نقشہ) ۔
کیمروں کو بنایا گیا ہتھیار
آج شہروں میں لگے سی سی ٹی وی صرف ٹریفک کنٹرول کے لیے نہیں ہیں۔ اگر کوئی سسٹم میں سیندھ مارے تو یہی کیمرے نگرانی کا طاقتور ذریعہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کون کب نکلا، کون ساتھ تھا، کس راستے سے نقل و حرکت ہوئی اور محافظ کب بدلے، ہر سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاتا رہا۔
کارروائی کا منصوبہ کیسے بنا
جب کافی ڈیٹا جمع ہو گیا تو مقام، وقت اور سکیورٹی کی کمزوریوں کو سمجھ کر آگے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل نگرانی نے اس پورے معاملے میں بڑا کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اب جنگ صرف زمین، سمندر یا فضا میں نہیں لڑی جاتی۔ سائبر نیٹ ورک، کیمرا سسٹم، موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سرور سب ممکنہ میدان جنگ بن چکے ہیں۔ جو ممالک سائبر ٹیکنالوجی میں آگے ہیں وہ براہ راست فوجی ٹکرا ؤکے بغیر بھی بڑی حکمت عملی کی برتری حاصل کر سکتے ہیں۔
اہم سوالات
- کیا شہروں کے سی سی ٹی وی سسٹم محفوظ ہیں۔
- کیا موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
- کیا آنے والے وقت میں سائبر جاسوسی عام حکمت عملی بن جائے گی۔
مشرق وسطی میں پہلے سے بڑھتے تناؤ کے درمیان یہ معاملہ واضح اشارہ دیتا ہے کہ مستقبل کی جنگ اب ' ڈیٹا سے ٹارگٹ ' پہنچ چکی ہے۔