نئی دہلی: مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے جب پوری دنیا کی پروازوں کو روک دیا تو ہندوستان نے اپنی مہمان نوازی کی روایت کو نبھاتے ہوئے ایک مثال پیش کی ہے۔ خلیجی ممالک میں شروع ہونے والی جنگ کے سبب جو غیر ملکی شہری چاہ کر بھی ہندوستان سے اپنے وطن واپس نہیں جا پا رہے، ان کے لیے حکومت نے بڑی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے اس وقت میں کسی بھی غیر ملکی مہمان کو قانونی الجھنوں یا جرمانے کے بوجھ تلے نہیں دبنے دیا جائے گا۔
ویزا کی فکر ختم، اب 30 دن کی اضافی مہلت
دبئی میں ہندوستانی قونصل خانے کی طرف سے جاری تازہ اطلاع کے مطابق جن غیر ملکی شہریوں کا برقی ویزا یا معمول کا ویزا ختم ہو چکا ہے یا آنے والے چند دنوں میں ختم ہونے والا ہے انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت نے ان کے قیام کی مدت اگلے 30 دنوں کے لیے بالکل مفت بڑھا دی ہے۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے بڑی راحت ثابت ہوا ہے جو پروازیں منسوخ ہونے کے سبب غیر یقینی صورت حال سے گزر رہے تھے۔
نہ زیادہ قیام کا خوف، نہ جرمانے کا مسئلہ
عام طور پر ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے، لیکن موجودہ بحران کو دیکھتے ہوئے ہندوستان نے اسے مکمل طور پر معاف کر دیا ہے۔ 28 فروری کے بعد سے جاری اس تنازع کے باعث جو بھی غیر ملکی شہری یہاں پھنسے ہیں ان سے ایک پیسہ بھی جرمانہ نہیں لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جیسے ہی آسمان سے جنگ کے بادل چھٹیں گے اور پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی ان شہریوں کو بغیر کسی فیس کے روانگی کی اجازت دی جائے گی تاکہ وہ باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔
قانون کی سختی پر انسانیت کی ترجیح
حکومت نے قواعد میں اتنی نرمی کر دی ہے کہ اگر کوئی فنی خرابی یا کسی اور وجہ سے ویزا بڑھانے کے لیے آن لائن درخواست نہیں دے پاتا تو بھی اسے مجرم یا قانون توڑنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عالمی بحران کے وقت انسانی نقطہ نظر اختیار کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
آخر یہ حالات کیوں پیدا ہوئے
ایران کی طرف سے خلیج میں موجود امریکی ٹھکانوں پر حملوں کے بعد پورے مغربی ایشیا کی فضائی حدود غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ کئی ممالک نے اپنی سرحدیں اور فضائی راستے بند کر دیے ہیں جس کے باعث عالمی فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور جنگ کے خدشے نے ہزاروں سیاحوں کو ہندوستان میں ہی رکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کے اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشکل وقت میں ہندوستان نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ بھی مضبوطی سے کھڑا ہے۔