انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی موت کو لے کر تنازع ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آئے نئے دستاویزات، ویڈیو فوٹیج اور بین الاقوامی تجزیہ کار اور صحافی ماریو نوفل (Mario Nawfal) کی جانب سے کیے جا رہے انٹرویوز میں ہونے والے انکشافات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ایپسٹین کی موت سے جڑی سرکاری کہانی پوری طرح درست ہے۔ تاہم یہ تمام دعوے اور الزامات ابھی عوامی بحث اور جانچ کے دائرے میں ہیں، نہ کہ کسی عدالت سے ثابت شدہ حقیقت۔
فورینسک تجزیہ کار (ماہر) کے چونکا دینے والے دعوے
ایک انٹرویو میں فورینسک تجزیہ کار ڈاکٹر گیریسن نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال سے باہر لے جائے گئی جس لاش کی تصاویر میڈیا میں آئیں، اس کے کان اور ناک ایپسٹین سے میل نہیں کھاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ فائلوں میں ایف بی آئی نے تسلیم کیا ہے کہ پریس کو گمراہ کرنے کے لیے ایک ڈیکوئے یعنی نقلی لاش استعمال کی گئی۔ ڈاکٹر گیریسن کے مطابق ایپسٹین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی اہم تفصیلات غائب ہیں۔ رپورٹ میں انہیں عام ختنہ شدہ مرد بتایا گیا، جبکہ متاثرہ لڑکیوں نے ان کے جسم کو مختلف اور بگڑا ہوا بتایا تھا۔ ایک اور بڑا سوال یہ ہے کہ ایپسٹین کی موت کے اعلان سے جڑی ایف بی آئی کی پریس ریلیز مبینہ طور پر موت سے ایک دن پہلے کی تاریخ کی بتائی جا رہی ہے۔

کیمروں نے کام کرنا بند کیا یا جان بوجھ کر بند کیے گئے
انٹرویو میں یہ بھی دعوی کیا گیا کہ جس جیل میں ایپسٹین بند تھے، وہاں کے کیمرے اسی وقت بند ہو گئے جب انہیں واپس لایا گیا، اور ان کی موت کے اگلے دن دوبارہ ٹھیک ہو گئے۔ ڈاکٹر گیریسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی فوٹیج بھی تلاش کی ہے، جس کے بارے میں محکمہ انصاف نے پہلے دعوی کیا تھا کہ وہ ریکارڈ ہی نہیں ہو رہی تھی۔

کوڈ والے ای میلز اور پزّا زبان
نئی فائلوں میں ایسے ای میلز کا ذکر ہے جن میں 'پزّا ' ، ' چیز'، 'بیف جرکی'، 'شرمپ ' اور 'وائٹ شارک' جیسے الفاظ عجیب سیاق و سباق میں استعمال ہوئے ہیں۔ فورینسک تجزیہ کار کا دعویٰ ہے کہ یہ الفاظ مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں کے لیے کوڈ تھے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اب تک نہیں ہو سکی ہے۔

متاثرہ خاتون نے خاموشی توڑی
ایک اور انٹرویو میں ایپسٹین کی مبینہ متاثرہ خاتون جولیٹ برائنٹ نے الزام لگایا کہ 2002 سے 2004 کے درمیان ایپسٹین کے اثر میں رہتے ہوئے انہیں ڈرایا دھمکایا گیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایپسٹین خود کو خفیہ ایجنسیوں سے جڑا ہوا بتاتا تھا اور بالکل بے خوف تھا۔ جولیٹ نے یہ بھی سنگین الزام لگایا کہ ان کے ساتھ بغیر رضامندی کے طبی عمل کیے گئے۔
بلیک میل اور بااثر نیٹ ورک
ڈاکٹر گیریسن کے مطابق ایپسٹین کے پاس کئی بااثر لوگوں کے 'بیک اپ ' موجود تھے، جن کا استعمال بلیک میل کے لیے کیا جا سکتا تھا۔ مشہور فلم ساز' ووڈی ایلن ' (Woody Allen ) کے ایک بیان کا بھی ذکر ہوا، جس میں انہوں نے ایپسٹین کو 'کانٹ ڈریکولا کی طرح لوگوں کو جمع کرنے والا' بتایا تھا۔ ان تمام انٹرویوز اور فائلوں نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ایپسٹین کی موت کے معاملے میں ابھی بھی کئی سوالات بے جواب ہیں۔ ہر نئی معلومات سچائی واضح کرنے کے بجائے مزید شکوک پیدا کر رہی ہے۔ تاہم تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی نیا سرکاری نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔