دبئی: خلیجی ممالک میں بڑھتے ہوئے تناو کے درمیان، متحدہ عرب امارات کے ایک اہم تیل برآمدی مرکز فجیرہ میں ڈرون حملے اور آگ لگنے کے بعد تیل لوڈ کرنے کا کام روک دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خارگ جزیرے میں واقع تیل ٹرمینل پر کیے گئے حملے کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق، فجیرہ ٹرمینل پر دو مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ مقامی میڈیا دفتر کے مطابق، ایک ڈرون کو روکنے کے دوران گرے ہوئے ملبے کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ اگرچہ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے، لیکن حفاظتی وجوہات کی بنا پر تیل کی سپلائی روک دی گئی ہے۔ فجیرہ بندرگاہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہاں سے روزانہ تقریباً دس لاکھ بیرل تیل برآمد ہوتا ہے، جو دنیا کی مجموعی طلب کا تقریباً ایک فیصد ہے۔
ایران کی وارننگ۔
ایران کے انقلابی گارڈز نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی مفادات، جن میں بندرگاہیں اور فوجی ٹھکانے شامل ہیں، ان کے جائز ہدف ہیں۔ ایرانی خبر رساں اداروں نے دبئی کی جبل علی بندرگاہ اور ابو ظہبی کی خلیفہ بندرگاہ کے قریب رہنے والے لوگوں کو بھی علاقہ چھوڑنے کی وارننگ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس تنازع میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔
عالمی تیل بحران کا خدشہ۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ28 فروری سے آبنائے ہرمز متاثر ہونے کے باعث دنیا اب تک کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ اس سے پہلے منگل کے روز ابو ظہبی کی الرویس ریفائنری کو بھی ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ کے باعث بند کرنا پڑا تھا۔ فی الحال متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں کوئی سرکاری وقت نہیں دیا گیا ہے۔