Latest News

ایران کی ''پوری تہذیب ختم ''والا بیان ٹرمپ کو پڑسکتا ہے مہنگا، امریکہ میں مواخذہ کی تیاریاں، 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے کھولا مورچہ

ایران کی ''پوری تہذیب ختم ''والا بیان ٹرمپ کو پڑسکتا ہے مہنگا، امریکہ میں مواخذہ کی تیاریاں، 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے کھولا مورچہ

انٹر نیشنل ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران کے بارے میں دیے گئے ایک متنازع بیان نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی "پوری تہذیب" کو ختم کرنے کی دھمکی دینے کے بعد، امریکہ میں انہیں صدر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
منگل کو ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ اگر تہران مقررہ وقت تک سمجھوتہ نہیں کرتا، تو "ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے"۔ اس بیان کو عالمی سطح پر جنگی جرم کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔
ستر سے زائد ارکان پارلیمنٹ میدان میں
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے ستر سے زائد ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹرز نے متحد ہو کر ان کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ارکان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب حکومت چلانے کے لیے ذہنی اور اخلاقی طور پر موزوں نہیں رہے۔
پچیسواں آئینی ترمیم:  سینیٹر کرس مرفی اور ایڈ مارکی سمیت کئی ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ کی کابینہ کو پچیسویں آئینی ترمیم کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ قانون کابینہ کو اختیار دیتا ہے کہ اگر صدر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہو تو اسے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
مواخذہ
ارکان کا کہنا ہے کہ اگر کابینہ کوئی قدم نہیں اٹھاتی تو کانگریس کو ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذہ چلا کر انہیں قصوروار ٹھہرانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کا سخت ردعمل
ٹرمپ کے بیان پر اقوام متحدہ نے بھی بغیر نام لیے سخت اعتراض کیا۔ ادارے کے سربراہ انتونیو گوتیریس نے واضح کیا کہ کسی بھی فوجی مقصد کے لیے شہریوں کی بنیادی سہولیات کو تباہ کرنا یا پوری تہذیب کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
جنگ بندی کا اعلان، مگر غصہ برقرار
تنازع بڑھنے پر، مقررہ وقت ختم ہونے سے تقریبا نوے منٹ پہلے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران پر حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔ تاہم ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ٹرمپ کا بیان ناقابل معافی ہے۔ امریکی رکن سیٹھ مولٹن نے کہا کہ عارضی جنگ بندی ہو یا نہ ہو، ٹرمپ پہلے ہی ایسا جرم کر چکے ہیں جس پر مواخذہ بنتا ہے۔ انہیں مزید نقصان پہنچانے سے پہلے ہٹانا ضروری ہے۔
 



Comments


Scroll to Top