انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 555 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے راس تنورا تیل صاف کرنے کی تنصیب پر ہونے والے ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا۔ اس دوران امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے مرکزی دفتر کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل نے بھی تہران میں فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ پیر کو ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے یہ معلومات دی۔ ادارے کے مطابق ملک کے 131 شہر ان حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ کئی مقامات پر رہائشی علاقوں، عوامی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
امریکی مرکزی کمان نے کہا کہ اس نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے مرکزی دفتر کو بڑے پیمانے پر حملے میں تباہ کر دیا۔ امریکی مرکزی کمان نے بیان میں کہا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے گزشتہ 47 برسوں میں ایک ہزار سے زائد امریکیوں کو ہلاک کیا۔ کل کے بڑے حملے نے سانپ کا سر کچل دیا۔ اسرائیلی فوج نے بھی تہران سمیت کئی فوجی کمان مراکز پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ بیان کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور کے انٹیلی جنس مرکزی دفتر اور فضائیہ کے کمان مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ مشترکہ امریکی۔اسرائیلی مہم ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد اور تیز ہو گئی ہے۔
ایران نے جواب میں اسرائیل، خلیجی خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں، سعودی دارالحکومت اور دبئی کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس دوران ایران نے 66 سالہ مذہبی رہنما علی رضا اعرافی کو تین رکنی عبوری قیادت کونسل میں مقرر کیا ہے، جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک حکومت چلائے گی۔ ہلال احمر نے بتایا کہ اس کا انسانی مشن بغیر رکے کام کر رہا ہے۔ ملک بھر میں امدادی اور ریسکیو ٹیمیں تعینات ہیں اور ایک لاکھ سے زائد ہنگامی اہلکار ہائی الرٹ پر ہیں۔ تقریباً 40 لاکھ رضاکاروں کا نیٹ ورک ضرورت پڑنے پر مدد اور نفسیاتی تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ 131 شہروں تک پھیلے ان حملوں نے ملک میں انسانی بحران کے خدشے کو بڑھا دیا ہے۔ ہسپتالوں پر دباو¿ بڑھ رہا ہے اور بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان حملوں پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، کیونکہ تنازع کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔