Latest News

چین میں عیسائیوں کے خلاف سخت کارروائی، چرچوں پر چھاپے، کئی پادری گرفتار

چین میں عیسائیوں کے خلاف سخت کارروائی، چرچوں پر چھاپے، کئی پادری گرفتار

بیجنگ:  چین میں غیر رجسٹرڈ عیسائی چرچوں کے خلاف کارروائی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ جنوری 2026 کے آغاز میں ژیجیانگ صوبے کے وینژو شہر میں واقع یایانگ چرچ کو سینکڑوں مسلح پولیس اہلکاروں نے گھیر لیا اور چرچ کے اوپر لگا ہوا صلیب ہٹا دیا گیا۔ یہ کارروائی صرف مقامی تعمیراتی ضابطوں کا معاملہ نہیں، بلکہ آزاد عیسائی عبادت کے خلاف چل رہی وسیع قومی مہم کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ یایانگ چرچ ایک غیر رجسٹرڈ پروٹسٹنٹ 'ہاؤس چرچ' ہے، جو سرکاری کنٹرول والے مذہبی نظام سے باہر کام کرتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق دسمبر 2025 کے وسط سے ہی چرچ پر دباؤ بڑھایا جا رہا تھا اور کئی پادریوں اور اراکین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ جنوری آتے آتے یہ معاملہ مکمل پولیس آپریشن میں بدل گیا، جس سے صاف ہے کہ انتظامیہ غیر رسمی چرچوں کو پوری طرح ریاستی کنٹرول میں لانا چاہتی ہے۔
چین میں عیسائی مذہب کو سرکاری منظوری تو ہے، لیکن صرف ریاست کے کنٹرول والے اداروں کے ذریعے۔ پروٹسٹنٹ چرچوں کو  'تھری - سیلف پیٹریاٹک موومنٹ' اور کیتھولک چرچوں کو سرکاری کیتھولک یونین سے جڑنا لازمی ہے۔ جو چرچ رجسٹریشن سے انکار کرتے ہیں، انہیں غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ وینژو کو طویل عرصے سے آزاد عیسائی برادری کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے اور اسے چین کا یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پہلے بھی صلیب ہٹانے، چرچ سیل کرنے اور پادریوں کی گرفتاری جیسے واقعات ہو چکے ہیں، لیکن حالیہ کارروائی کو زیادہ منظم اور مربوط مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی عرصے میں سچوان صوبے کے چینگدو شہر میں واقع ارلی رین کوونینٹ چرچ کے کئی سینئر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔ چرچ نے اسے منصوبہ بند کارروائی بتایا۔ وہیں شانکسی صوبے کے لنفن گولڈن لیمپ اسٹینڈ چرچ سے جڑے لوگوں کو 2025 میں مبینہ دھوکہ دہی کے معاملات میں سزا دی گئی، جسے انسانی حقوق کے گروہ مذہبی دبا ؤکا قانونی ذریعہ بتاتے ہیں۔ انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ چین میں ترمیم شدہ مذہبی قوانین حکومت کو نگرانی، سزا اور کنٹرول کی وسیع طاقتیں دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق فوجداری قوانین کا استعمال کر کے پرامن مذہبی سرگرمیوں کو دبایا جا رہا ہے، جس سے آزاد عقیدے کے لیے جگہ مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top