National News

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے بیچ چین کا بڑا فیصلہ، تائیوان کے لیے دکھائی نرمی، کھولی پروازیں اور تجارت

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے بیچ چین کا بڑا فیصلہ، تائیوان کے لیے دکھائی نرمی، کھولی پروازیں اور تجارت

بیجنگ: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ تائیوان کے ساتھ کچھ عرصے سے رکے ہوئے تعلقات کو دوبارہ شروع کرے گا۔ اس فیصلے میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور تائیوان کے سمندری (ماہی گیری) مصنوعات کی درآمد شامل ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب تائیوان کی اپوزیشن پارٹی کوومنتانگ کے رہنماو¿ں نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا۔ اس دوران ان کی ملاقات شی جن پنگ سے ہوئی، جس میں دونوں فریقوں نے امن اور بات چیت کو بڑھانے کی بات کہی۔
چین نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تائیوان کے ساتھ ایک طویل مدتی رابطہ نظام بنانے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے، تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری رہ سکے۔ اس کے علاوہ، چین نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ شی آن اور ارومچی جیسے شہروں سے تائیوان کے لیے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گا۔ تاہم، یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ انتظام کب اور کیسے نافذ ہوگا۔
تعلقات کب بگڑے۔
چین اور تائیوان کے درمیان تعلقات 2016 کے بعد سے مسلسل خراب ہوتے گئے۔ جب تسائی انگ وین کی پارٹی اقتدار میں آئی، تو چین نے تائیوان حکومت کے ساتھ اپنے زیادہ تر سرکاری رابطے بند کر دیے۔

  • چین نے تائیوان کے ارد گرد فوجی سرگرمیاں بڑھا دیں۔
  • روزانہ لڑاکا طیارے اور جہاز بھیجنے شروع کر دیے۔
  • تجارت اور سفر پر کئی پابندیاں لگا دیں۔

تجارت اور سفر پر اثر۔

  • 2019 میں چین نے اپنے شہریوں کے تائیوان جانے پر پابندی لگا دی۔
  • تائیوان نے بھی سخت ویزا قوانین نافذ کر دیے۔
  • 2021 سے چین نے انناس، مچھلی، اسکویڈ، ٹونا جیسی چیزوں کی درآمد پر پابندی لگا دی۔
  • اب چین ان پابندیوں میں بتدریج نرمی کر رہا ہے، جس سے دونوں کے درمیان تجارت بڑھ سکتی ہے۔

نئے منصوبوں کی منصوبہ بندی۔
چین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ماتسو اور کن مین جزائر کو جوڑنے کے لیے پل بنانے پر کام کرے گا۔ یہ جزائر تائیوان کے ہیں، لیکن جغرافیائی طور پر چین کے کافی قریب ہیں۔ تاہم یہ اقدامات تعلقات میں بہتری کا اشارہ ہیں، لیکن بنیادی تنازع اب بھی برقرار ہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ مانتا ہے جبکہ تائیوان خود کو آزاد اور الگ نظام حکومت والا علاقہ مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان سیاسی اور فوجی کشیدگی ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔
                
 



Comments


Scroll to Top