National News

عالمی تیل سپلائی پر جھٹکا: چین کے فیصلے سے آسٹریلیا میں ایندھن بحران کا خطرہ، صرف 30 دن کا ذخیرہ باقی

عالمی تیل سپلائی پر جھٹکا: چین کے فیصلے سے آسٹریلیا میں ایندھن بحران کا خطرہ، صرف 30 دن کا ذخیرہ باقی

انٹرنیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی کے بحران کے درمیان چین کے ایک فیصلے نے آسٹریلیا کے ہوائی نظام کے بارے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے اپنی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو تمام ایندھن کی برآمد روکنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے آسٹریلیا میں طیاروں کے ایندھن کی کمی اور ہوائی کرایوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ آسٹریلیا کے صنعت، سائنس اور وسائل کے محکمے کے مطابق مارچ  کے وسط تک ملک کے پاس تقریباً 29 سے  32  دنوں کا طیاروں کے ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ مقدار تقریبا ً 80.2  کروڑ  لیٹر کے برابر ہے۔ اگر نئی فراہمی وقت پر نہ آئی تو ہوائی اڈوں پر ایندھن تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق چین کے اس قدم کے باعث آسٹریلیا کے لیے بھیجے جا رہے کم از کم دو ایندھن بردار جہازوں کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی ایشیا میں تنازع اور تیل کی فراہمی کے حوالے سے عالمی منڈیاں پہلے ہی غیر مستحکم ہیں۔ دنیا کے اہم ترین تیل نقل و حمل کے راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں حال ہی میں دو مال بردار جہاز تباہ کر دیے گئے، جس سے اس علاقے میں جہازوں کی آمد و رفت کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
 اگر یہ صورت حال جاری رہی تو ایشیا کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو خام تیل کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایشیائی ممالک کو اپنے تیل کا تقریبا 90  فیصد حصہ مغربی ایشیا سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف آسٹریلیا خود مائع ایندھن کا خالص درآمد کنندہ ہے اور ایشیا کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات سے ہونے والی برآمدات پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔
2025  میں آسٹریلیا نے اپنے طیاروں کے ایندھن کا تقریبا 32  فیصد چین سے درآمد کیا تھا، اس لیے چین کی جانب سے برآمد روکنا آسٹریلیا کے لیے بڑی تشویش بن گیا ہے۔ آسٹریلیا کی بڑی فضائی کمپنی کانتاس  (Qantas  نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایندھن مہنگا ہوا تو ہوائی کرایوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم فی الحال پروازیں منسوخ نہیں کی گئی ہیں۔ وہیں،  نیوزی لینڈ کی قومی فضائی کمپنی ( Air New Zealand) پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں اور فراہمی کے مسائل کی وجہ سے تقریبا1100   پروازیں کم کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورت حال طویل عرصہ تک جاری رہی تو قریب مستقبل میں ہوائی کرایوں میں تیز اضافہ، ایندھن کا اضافی معاوضہ، پروازوں کی تعداد میں کمی اور پروازوں کی منسوخی جیسے مسائل دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top