بیجنگ: چین نے چار افراد کو پھانسی دے دی ہے جو چھ چینی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے اور میانمار سے چار ارب امریکی ڈالر سے زائد کے گھوٹالے اور جوئے کے نیٹ ورک چلانے کے مجرم پائے گئے تھے۔ حکام نے پیر کو یہ جانکاری دی۔ جنوبی چین کی شین ڑین انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے پیر کی صبح جاری ایک بیان میں ان سزاوں کی تصدیق کی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پھانسی کب دی گئی۔ میانمار میں اسی معاملے میں 11 دیگر افراد کو گزشتہ ہفتے سزا سنائی گئی تھی۔
عدالت نے نومبر میں بدنامِ زمانہ بائی خاندان کے افراد سمیت پانچ لوگوں کو سزائے موت سنائی تھی، جن پر گھوٹالہ مراکز اور کیسینو کے ایک بڑے نیٹ ورک کو چلانے کا الزام تھا۔ عدالت نے بتایا کہ ان میں سے ایک ملزم اور گینگ کے سرغنہ بائی سووچینگ کی سزا سنائے جانے کے بعد بیماری کے باعث موت ہو گئی تھی۔ عدالت کے مطابق، اس گینگ نے چین سے متصل میانمار کے کوکانگ علاقے میں صنعتی پارک قائم کیے تھے، جہاں سے جوئے اور ٹیلی کمیونی کیشن گھوٹالے کیے جاتے تھے۔ ان سرگرمیوں میں اغوا، زبردستی وصولی، جبری جسم فروشی، منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ شامل تھی۔