Latest News

بنگلہ دیش میں ایک بار پھر ہندو نوجوان کا بے رحمی سے قتل ، 25 دن میں 8 واں واقعہ

بنگلہ دیش میں ایک بار پھر ہندو نوجوان کا بے رحمی سے قتل ، 25 دن میں 8 واں واقعہ

نیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندؤوں کے خلاف تشدد کا ایک اور خوفناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ فینی ضلع میں انتہاپسندوں نے 28  سالہ ہندو نوجوان سمیر کمار داس کو قتل کر دیا۔ قتل کے بعد ملزمان اس کا آٹو رکشا بھی چھین کر فرار ہو گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ واقعے کے کئی دن گزرنے کے باوجود بھی ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔
اس سے ٹھیک دو دن پہلے سنام گنج ضلع میں ایک اور ہندو نوجوان جئے مہاپاترو کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ جئے کو ایک مقامی شخص نے پہلے بے رحمی سے مارا پیٹا اور پھر زہر دے دیا۔ ان مسلسل واقعات نے پورے ہندو برادری میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔
25 دن میں8  ہندؤوں کا قتل، خوف میں مسلسل اضافہ
اعداد و شمار اور بھی زیادہ خوفناک ہیں۔ گزشتہ محض 25 دنوں میں بنگلہ دیش میں 8 ہندؤوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ 18 دسمبر کو میمن سنگھ ضلع کے بھالوکا علاقے میں دیپو چندر داس کو انتہاپسندوں کے ایک ہجوم نے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے چھ دن بعد، 24 دسمبر کو امرت منڈل کو قتل کر دیا گیا۔
12  دسمبر2025  کو ڈھاکہ میں انقلابی منچ کے رہنما شریف عثمان ہادی کو گولی ماری گئی تھی، جن کی بعد میں سنگاپور میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد حالات مزید بگڑتے چلے گئے اور اقلیتوں پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔
مختلف اضلاع سے سامنے آئے خوفناک واقعات
بنگلہ دیش کے کئی علاقوں سے ہندؤوں پر حملوں اور قتل کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ دیپو چندر داس، امرت منڈل، بجندر بسواس اور کھوکن چندر داس کے قتل نے پوری برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پانچ جنوری کو جیسور ضلع میں آئس فیکٹری کے مالک رانا پرتاپ بیراغی کو قتل کر دیا گیا، جو بی ڈی خبر اخبار کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بھی تھے۔ اسی دن نر سنگدی ضلع میں دکاندار شرت منی چکرورتی کو بھی قتل کر دیا گیا۔
ان واقعات کی تصدیق بنگلہ دیش ہندو بدھ عیسائی اتحاد کونسل نے بھی کی ہے۔ تنظیم کے مطابق صرف دسمبر کے مہینے میں ہی فرقہ وارانہ تشدد کے کم از کم 51 واقعات درج کیے گئے۔ ان میں 10 قتل، لوٹ مار اور آتش زنی کے 23   واقعات، ڈکیتی اور چوری کے 10 واقعات، جھوٹے توہین مذہب کے الزامات میں حراست اور تشدد کے چار واقعات، زیادتی کی کوشش کا ایک واقعہ اور جسمانی حملوں کے تین واقعات شامل ہیں۔
ہندوستان  نے سخت تشویش کا اظہار کیا
بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے معاملے پر ہندوستان نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ انتہاپسندوں کی جانب سے اقلیتوں، ان کے گھروں اور کاروبار پر بار بار ہونے والے حملے نہایت تشویشناک ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسی فرقہ وارانہ وارداتوں سے سختی اور تیزی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔
رندھیر جیسوال نے یہ بھی کہا کہ ان حملوں کو ذاتی دشمنی یا سیاسی تنازع قرار دے کر ٹالنا غلط ہے، کیونکہ اس سے مجرموں اور انتہاپسندوں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی سلامتی نہایت ضروری ہے اور اس طرح کے واقعات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
 



Comments


Scroll to Top