Latest News

بنگلہ دیش میں حلف برداری پر سیاسی ٹکراؤ، بی این پی کے بعد جماعتِ اسلامی نے بھی حلف نہ لیا

بنگلہ دیش میں حلف برداری پر سیاسی ٹکراؤ، بی این پی کے بعد جماعتِ اسلامی نے بھی حلف نہ لیا

انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمنٹ کے قیام سے پہلے ہی ریفرنڈم اور آئینی اصلاحاتی کونسل کو لے کر بڑا سیاسی تعطل سامنے آ گیا ہے۔ انتخاب میں کامیاب ہونے والی بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی(بی این پی)کی طرف سے آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کے طور پر حلف لینے سے انکار کے بعد دائیں بازو کی جماعت جماعتِ اسلامی نے بھی اپنے نو منتخب ارکانِ پارلیمنٹ کی حلف برداری روک دی۔ منگل کو چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے پارلیمنٹ ہاؤس جاتیہ سنگساد (Jatiya Sangsad ) میں بی این پی کے ارکان کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس کے بعد جماعتِ اسلامی کے ارکان کی حلف برداری ہونی تھی، لیکن بی این پی کے فیصلے کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔

🔴Big Breaking News

BNP has refused to accept Yunus led interim govt's proposal for MPs to take simultaneous oath as members of a new "Constitution Reform Council" that aims to change the Bangladesh constitution in accordance with the referendum conducted alongwith the… pic.twitter.com/V94Vo9zL17

— Indrajit Kundu | ইন্দ্রজিৎ (@iindrojit) February 17, 2026


جماعتِ اسلامی کے نائب صدر عبداللہ محمد طاہر نے واضح کہا کہ جب تک بی این پی کے ارکان عام ارکان کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کے طور پر بھی حلف نہیں لیتے، تب تک ان کی جماعت پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر حلف نہیں لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے مطابق، آئینی اصلاحات کے بغیر پارلیمنٹ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ آئینی اصلاحاتی کونسل کی دوسری حلف برداری نام نہاد' جولائی چارٹر ' کو نافذ کرنے کے عزم سے جڑی ہے، جس میں آئین میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی تجویز ہے۔ ریفرنڈم میں 84 نکات پر مشتمل پیچیدہ تجویز پیش کی گئی تھی، جس میں الیکشن کمیشن کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ ووٹروں نے ہاں میں ووٹ دیا۔
وہیں بی این پی کی پالیسی ساز مستقل کمیٹی کے رکن اور نو منتخب رکنِ پارلیمنٹ صلاح الدین احمد نے حلف برداری سے پہلے پارٹی ارکان سے کہا کہ انہیں آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کے طور پر منتخب نہیں کیا گیا ہے اور ابھی تک اس کونسل سے جڑا کوئی بھی ضابطہ آئین کا حصہ نہیں ہے۔ پارٹی صدر طارق رحمان کی موجودگی میں انہوں نے صاف کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی دوسرا حلف نہیں لے گا۔
 قابلِ ذکر ہے کہ معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے انتخاب سے باہر رہنے کے بعد ہونے والے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے 297 میں سے 209 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ جماعتِ اسلامی کو 68 نشستیں ملیں۔ موجودہ ٹکرا ؤسے صاف ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی پارلیمنٹ کی شروعات ہی آئینی تنازعات کے سائے میں ہو رہی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top