انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطی میں جاری جنگ کے درمیان بحرین سے چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ بحرین کی حکومت نے پانچ پاکستانی اور ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے حملے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی اور حملے کی حمایت کرتے ہوئے اس کا جشن منایا۔ بحرین کے وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
منامہ میں حملے سے موت
وزارت نے بتایا کہ منگل کے روز دارالحکومت منامہ کے ایک رہائشی علاقے پر ایرانی حملہ ہوا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کا تصادم تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں کے مطابق گرفتار کیے گئے لوگوں نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مبینہ طور پر حملوں کی تعریف کی اور ایران کی کارروائی کی حمایت کی۔

چھ افراد گرفتار
بحرین انتظامیہ نے اسے سلامتی کے لیے سنگین خطرہ اور غلط معلومات پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ بحرین کی پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان میں پانچ پاکستانی اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ گرفتار کیے گئے پاکستانیوں کے نام عبدالرحمان عبدالستار، ارسلان علی ساجد، محمد معاذ اکبر، افضل خان اور احمد ممتاز بتائے گئے ہیں۔ جبکہ بنگلہ دیشی شہری کا نام محمد اسرافیل میر بتایا گیا ہے۔
بحرین کی تیل کمپنی نے جاری کیا 'فورس میجور 'نوٹس
خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی تنا ؤکے درمیان بحرین کی سرکاری توانائی کمپنی بحرین پیٹرولیم کمپنی نے بھی اپنے کام کے بارے میں "فورس میجور" نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ علاقائی تصادم اور سلامتی کے خطرات کی وجہ سے کمپنی کے کام پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان ایران اب ان خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکی فوجی ٹھکانے موجود ہیں۔