National News

بنگلہ دیش میں خسرے کا قہر ، 100 سے زائد بچوں کی موت

بنگلہ دیش میں خسرے کا قہر ، 100 سے زائد بچوں کی موت

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں خسرے کے قہر سے ایک سو سے زیادہ بچوں کی موت کے بعد ملک میں انفیکشن پر قابو پانے کے لیے خسرہ-روبیلا کا ہنگامی ٹیکہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ ایک مشترکہ بیان کے مطابق، حکومت نے اتوار کو عالمی ادارہ صحت، اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف)اور 'گیوی ویکسین الائنس' کے شراکت میں اٹھارہ اعلیٰ خطرے والے اضلاع میں چھ ماہ سے پانچ سال تک کے بچوں کے ٹیکہ کاری کی شروعات کی ہے۔ مہم کو اگلے مہینے سے مرحلہ وار پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔
یونیسف کی بنگلہ دیش میں نمائندہ رانا فلاورز نے کیسز میں تیزی سے اضافے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سب سے کم عمر اور کمزور بچوں کے لیے سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیسز میں تیزی سے اضافہ بیماری کے خلاف مزاحمت کی بڑی کمی کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ان بچوں میں جنہوں نے ایک بھی خوراک نہیں لی یا جن کی ٹیکہ کاری مکمل نہیں ہوئی ہے، جبکہ نو ماہ سے کم عمر بچوں میں انفیکشن خاص طور پر فکر انگیز ہے کیونکہ وہ ابھی باقاعدہ ویکسینیشن  کے اہل نہیں ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پندرہ مارچ سے اب تک سامنے آنے والے سات ہزار پانچ سو مشتبہ کیسز میں سے نو سو سے زیادہ کیسز میں خسرے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، خسرہ ایک انتہائی متعدی ہوا سے پھیلنے والی بیماری ہے، جس سے بخار، سانس سے متعلق علامات اور جسم پر دھبے ہو جاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلا کو روکنے کے لیے تقریباً پچانوے فیصد آبادی کا ٹیکہ کاری ضروری ہے۔
 



Comments


Scroll to Top