انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سخت موقف اپناتے ہوئے اتوار کو کہا کہ طاقتور ممالک کے آگے نہ جھکنے سے ایران کو طاقت ملتی ہے۔ تہران میں ایک کانفرنس میں سفارت کاروں سے گفتگو کے بعد عراقچی نے اشارہ دیا کہ ایران یورینیم افزودگی جاری رکھنے پر قائم رہے گا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے ایران کی یورینیم افزودگی ہی تنازع کی جڑ ہے۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے جمعہ کو عمان میں امریکی حکام سے ہونے والی بات چیت کی ایک طرف تعریف کی، دوسری طرف عراقچی کے بیان سے لگتا ہے کہ ان مذاکرات میں چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔
ایران پر سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کے مقصد سے امریکہ پہلے ہی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کو مغربی ایشیا بھیج چکا ہے۔ عراقچی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ایران کی طاقت کا راز دوسروں کی طرف سے دباؤ، غلبہ قائم کرنے اور پریشان کیے جانے کے خلاف کھڑے ہونے کی اس کی صلاحیت میں چھپا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ہمارے پاس ایٹمی بم ہے، جبکہ ہم ایٹمی بم نہیں بنا رہے۔ طاقتور ممالک کو نہ کہنے کی ہماری طاقت ہی ہمارے لیے ایٹمی بم ہے۔