پنجاب کی سیاست طویل عرصے سے علامتوں، جذباتی نعروں اور تنگ اتحادوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ کئی بار سیاسی مباحثوں میں حقیقی مسائل کی جگہ علامتی سیاست نے لے لی ہے۔
لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں، خصوصاً امت شاہی کی رہنمائی میں پنجاب کے لئے ایک نئی سوچ اور نئی سمت سامنے آرہی ہے، جہاں سیاست صرف علاقوں تک محدود نہیں بلکہ زمینی چیلنجوں کے ٹھوس حل پر مرکوز ہے۔
ایک سکھ ہونے کے ناطے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان کے طور پر، میں یہ واضح طور پر محسوس کرتا ہوں کہ یہ تبدیلی صرف سیاسی حکمت عملی نہیں ہے۔ یہ مانجاب کے مستقبل کو محفوظ مستحکم اور خوشحال بنانے کے لئے ایک وسیع قومی عزم کا حصہ ہے۔
اتحاد کی حدود سے آگے بڑھتی بھا جہا: دہائیوں تک مانجاب میں بھا جیہا نے شرومنی اکالی دل کے ساتھ اتحاد میں کام کیا۔ اس وقت کے سیاسی حالات میں یہ اتحادریاست کی سیاست کا ایک اہم حصہ تھا۔ لیکن اس نظام میں بھاجپا کا کردار اکٹر محمد و در ہا اور پارٹی کئی بار وسیع سماجی مسائل پر بر او راست مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
سکیورٹی اور سرحدی انتظام: مانخاب کا حقیقی نتایج انتخاب صرف ایک ریاست نہیں ہے، یہ بھارت کی سلامتی کے ڈھانچے کا ایک اہم ستون بھی ہے۔ پاکستان سے ملحقہ سرحد کے باعث یہاں اسلامتی سے متعلق مسائل انتہائی حساس ہیں۔
سکھ برادری کے ساتھ باوقار اور بامعنی مکالمہ: سکھ
برادری بھارت کی قومی شناخت کا ایک اہم اور قابل نفر حصہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کئی بار سیاست میں سکھ جذبات کو صرف علامتی سطح پر ہی مخاطب کیا گیا۔
پردھان منتری تریدر مودی جی اور
امت شاہ ہی کی قیادت میں مرکزی
حکومت نے کئی ایسے اقدامات کئے جو سکھ برادری کی طویل عرصے سے جڑی ہوئی خواہشات اور جذبات سے متعلق ہیں۔
کرتار پور کوریڈور کا کھلنا، گوردواروں سے متعلق
انتظامی اور مذہبی مسائل پر حساس روی، اور سکھ تاریخ و ورثے کے لئے احترام۔ یہ سب صرف سیاسی پیغامات نہیں بلکہ ایک گہرے ثقافتی احترام کی علامت ہیں۔
ایل انجمن حکومت کا تصور: اس سوچ کی توسیع ہے جہاں مرکز کی پالیسیاں اور ریاست کی انتظامی صلاحیت مل کر ترقی کو رفتار دیتی ہیں۔ یہ ماڈل پنجاب کے شہری متوسط طبقے تاجروں ، من کاروں اور نو جوانوں کے لئے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔
کسانوں کے ساتھ اعتماد کا نیا باب: انتخاب کی شناخت اس کے کسانوں سے ہے۔ زراعت یہاں صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی زندگی کی بنیاد ہے۔ زرعی قوانین کے مسئلے پر جو سیاسی اور سماجی تناو پیدا ہوا، اس نے بھاجپا اور پنجاب کے کسانوں کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیا۔
لیکن اب پارٹی کی کوشش ہے کہ مکالمہ سمجھے اور تعاون کے ذریعے اس فاصلے کو کم کیا جائے۔ ایم ایس پی کی مسلسل فراہمی ، زرعی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال اور فصلوں کی مون جیسے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو شروع ہو رہی ہے۔
اس کا مقصد صرف تنازع ختم کرتا نہیں بلکہ پنجاب کی زراعت کو طویل مدتی طور پر پائیداراور منافع بخش بناتا ہے۔
پنجاب کے لئے ایک طویل مدتی وڑن: آج یہ واضح ہے کہ امت شاہ جی پنجاب کو ایک طویل مدتی قومی منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف انتخابی حکمت عملی کا سوال نہیں ہے۔ یہ اس وسیج سوجی کا حصہ ہے جس میں پنجاب کو سلامتی ، ترقی ، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے ایک مضبوط ستون کے طور پر قائم کرنے کا ہدف ہے۔
علامتی سیاست سے آگے بڑھ کر حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہی پنجاب کے مستقبل کے لئے ضروری ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی آج مانجاب میں صرف ایک اتحادی جماعت کے کردار تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔ پارٹی کا مقصد ہے کہ وہ ریاست کے استحکام، خوشحالی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لئے ایک قابل اعتماد اور مضبوط سیاسی متبادل کے طور پر سامنے آئے۔
پنجاب کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسی تبدیلی جو صرف نعروں میں نہیں بلکہ پالیسیوں ترقی اور سلامتی کے ٹھوس ستان میں نظر آئے۔ اور نہیں وہ سمت ہے جس کی طرف پردھان منتری نریندر مصوری اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ می با جواب کی سیاست کو آگے لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
(آر پی سنگھ قومی ترجمان بھارتیہ جنتا پارٹی سابق رکن اسمبلی دہلی)