Latest News

ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کی ا جازت پر امریکہ کا بڑا بیان ، دنیا کے مفاد میں لیا فیصلہ ، روس کو نہیں ہوگا کوئی فائدہ

ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کی ا جازت پر امریکہ کا بڑا بیان ، دنیا کے مفاد میں لیا فیصلہ ، روس کو نہیں ہوگا کوئی فائدہ

واشنگٹن: ایران کے بحران اور عالمی توانائی کی فراہمی کو لے کر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان امریکہ نے ہندوستان کو روسی تیل قبول کرنے کی عارضی اجازت دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ  ہندوستان کو دی گئی یہ چھوٹ دنیا کے وسیع مفاد میں لیا گیا فیصلہ ہے اور اس سے روس کو کوئی بڑا اقتصادی فائدہ نہیں ہوگا۔
 لیوٹ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ فیصلہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور قومی سلامتی کی ٹیم نے مل کر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی فراہمی میں عارضی کمی کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں توانائی کی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے ہندوستان کو سمندر میں پہلے سے موجود روسی تیل قبول کرنے کی عارضی اجازت دی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ جس تیل کی بات ہو رہی ہے وہ پہلے ہی سمندر میں جہازوں پر موجود تھا۔ اس لیے یہ نیا کاروبار نہیں ہے اور اس سے روس کو کوئی بڑا مالی فائدہ ملنے کا امکان نہیں ہے۔ امریکہ نے ہندوستان  کو روسی تیل قبول کرنے کے لیے تیس دن کی عارضی چھوٹ دی ہے۔ یہ قدم صرف توانائی کی فراہمی میں پیدا ہونے والی عارضی کمی کو متوازن کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر ہندوستان  پر 25  فیصد تعزیری محصول عائد کیا تھا۔ امریکہ کا الزام تھا کہ روس سے توانائی خریدنے سے ماسکو کو روس یوکرین جنگ میں اقتصادی مدد مل رہی ہے۔
تاہم بعد میں امریکہ اور ہندوستان  کے درمیان تجارت سے متعلق عبوری معاہدے کی شکل طے ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وہ محصول واپس لے لیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ہندوستان  امریکہ کا ایک اہم تزویراتی شراکت دار ہے اور اس نے پہلے ہی پابندیوں کے تحت آنے والا روسی تیل خریدنا بند کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے موجودہ بحران میں ہندوستان کو یہ عارضی رعایت دی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی تیل کی منڈی میں ممکنہ عدم استحکام کو روکنے اور بین الاقوامی توانائی کی فراہمی کو متوازن رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
 



Comments


Scroll to Top