Latest News

روسی صدر پوتن کا 17 سالہ لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات کا سنسنی خیز خلاصہ، پروجیکٹ کے بہانے گھر بلاتے رہے: کتاب میں دعویٰ

روسی صدر پوتن کا 17 سالہ لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات کا سنسنی خیز خلاصہ، پروجیکٹ کے بہانے گھر بلاتے رہے: کتاب میں دعویٰ

انٹرنیشنل ڈیسک: روسی صدر ولادی میرپوتن  کی ذاتی زندگی پر نئی کتاب نے زبردست ہلچل مچا دی ہے۔ برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ کے مطابق صحافی رومن بادانِن اور میخائل روبن کی کتاب'The Tsar in Person. How Vladimir Putin Fooled Us All'میں  یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 2011 میں پوتن کے ایک 17 سالہ لڑکی الیسا خارچیوا کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔
کتاب کے مطابق، الیسا ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی کے طلباء کی طرف سے بنائے گئے ایک ایروٹک ( شہوانی، شہوت انگیز )کیلنڈر میں اپریل کے مہینے کے لیے ماڈل تھی۔ یہ کیلنڈر 2012 کے روسی صدارتی انتخابات سے قبل پوتن کی ماچو امیج کو بڑھاوا دینے کے لئے PR مہم کا حصہ تھا۔ پوتن کو یہ کیلنڈر اس میں شامل لڑکیوں کے رابطے کی تفصیلات کے ساتھ دیا گیا اور ان کی نظریں الیسا پر ٹک گئیں۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ پوتن کے معاونین الیسا کو اپنی مضافاتی رہائش گاہ پر بلایا کرتے تھے اور وہ تقریبا ایک سال تک ہر دو ہفتے بعدان کی صدارتی محل میں خفیہ ملاقاتیں  ہوتی تھیں ۔ ان ملاقاتوں کے دوران الیسا سے کچھ پراجیکٹس پیش کرنے کو کہا جاتا تھا ، جنہیں وہ خوشی خوشی پورا کرتی تھیں ۔ یہ بھی کہا گیا  کہ اس وقت پوتن  اپنی بیوی لیوڈمیلا سے شادی شدہ تھے اور ان کے جمناسٹ علینا کابیوا کے ساتھ بھی خفیہ تعلقات تھے جن سے ان کے دو بیٹے بھی ہیں۔

PunjabKesari
علینا کا بیوا (دائیں)
پوتن نے الیسا کو ماسکو کے باوقار انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں داخلہ دلایا، جسے ان کی طرف سے ایک انعام سمجھا جاتا تھا۔ تاہم جب پوتن  کی ایلیسا میں دلچسپی ختم ہوئی تو الیسا نے اپنی 60ویں سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایک متنازع تصویر پوسٹ کی جس کا عنوان تھا "Pussy for Putin"۔ اس تصویر میں، وہ سرخ لباس اور گہری گلے کے ساتھ ایک کالی بلی کو پکڑے ہوئے نظر آرہی ہیں۔ پوتن کو یہ پسند نہیں آیا اور الیسا نے جلدی سے اسے ہٹا دیا۔

PunjabKesari
اب 32 سال کی ایلیسا شادی شدہ ہے اور ماسکو کے ایک مہنگے علاقے میں ایک لگژری اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پوتن نے انہیں یہ اپارٹمنٹ دیا ہے تو انہوں نے اسے ایک احمقانہ سوال قرار دیا اور کہا کہ اس کی قیمت انہوں نے خود ادا کی۔ اگرچہ اس خبر کی سچائی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، لیکن اس نے پوتن کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔



Comments


Scroll to Top