جنجان / تہران: ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری شدید جنگ اب رہائشی اور مذہبی مقامات تک پہنچ چکی ہے۔ منگل کی صبح شمال مغربی ایران کے شہر جنجان میں ہونے والے ایک شدید فضائی حملے میں ایک معروف شیعہ مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق دشمن کے فضائی حملے میں جنجان کی فردوسی اسٹریٹ پر واقع گرینڈ حسینیہ کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ عمارت شیعہ برادری کے لوگوں کے اجتماع اور سوگ کی مجالس کے لیے ایک اہم ہال کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ حملے کے باعث مسجد کے گنبد اور میناروں کے بعض حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
جانی و مالی نقصان
ذرائع کے مطابق اس افسوسناک حملے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جنجان شہر ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ایک صنعتی صوبائی دارالحکومت ہے، جہاں اس حملے کے بعد خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے۔
جنگ کے بڑھتے خطرات
مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی اب براہِ راست تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اگرچہ اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف صرف ایران کے فوجی ٹھکانے اور اسلحہ سازی کے مراکز ہیں، لیکن اس تازہ حملے نے عام شہریوں اور مذہبی مقامات کی سلامتی پر بڑے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ایران بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کر کے دباو¿ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر حکمتِ عملی کے اقدامات کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مذہبی مقامات پر حملوں کے باعث آنے والے دنوں میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔