دہلی کے بھارت منڈپم میں پہلا 'انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ' منعقد کرنے کا ہندوستان کا فیصلہ صرف تکنیکی یا سفارتی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہری تبدیلی کی نشانی ہے۔ یہ تبدیلی اس بات سے جڑی ہے کہ آنے والے وقت میں کام کیسے ہوگا۔ ملازمتیں کیسے ملیں گی۔ لوگ اپنے کیریئر کو کیسے آگے بڑھائیں گے۔ آج عمومی تصور یہ بن رہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی لوگوں کی ملازمتیں چھین لے گا۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ اے آئی کام ختم نہیں کر رہا، بلکہ پرانے روزگار کے طریقوں کو بدل رہا ہے اور لوگوں کو نئے ہنر سیکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔
اے آئی خاص طور پر وہ کام بہت تیزی سے اور درست طریقے سے کر سکتا ہے، جو بار بار دوہرائے جاتے ہیں اور جن میں زیادہ تخلیقی سوچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے رپورٹ بنانا، ڈیٹا کا تجزیہ کرنا، عام کوڈ لکھنا، صارفین کی خدمت کے سوالات کے جواب دینا یا دستاویزات کو ترتیب دینا۔ پہلے ان کاموں کے لیے بڑی تعداد میں جونئیر ملازمین کی ضرورت ہوتی تھی۔ اب وہی کام اے آئی چند منٹوں میں کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کام ختم ہو گیا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ کام کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی نے پرانے کاموں کو بدلا ہے لیکن ساتھ ہی نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ جب مشینیں آئیں، تو ہاتھ سے کام کرنے والے کاریگر کی ضرورت کم ہوئی، لیکن انجینئر، مشین آپریٹر اور مینیجر جیسے نئے پیشے سامنے آئے۔ 1990 کی دہائی میں کمپیوٹر آئے، تو ٹائپسٹ اور کلرک کی ضرورت کم نہیں ہوئی، بلکہ وہ بھی کمپیوٹر سیکھ کر کام میں تیزی لائے۔ اس کے ساتھ سافٹ ویئر انجینئر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماہر اور ڈیٹا تجزیہ کار جیسے نئے پیشے پیدا ہوئے۔ آج اے آئی اسی عمل کا اگلا مرحلہ ہے۔
اے آئی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ انسانوں کی جگہ لینے کی بجائے ان کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ اے آئی معلومات فراہم کر سکتا ہے، مشورے دے سکتا ہے اور کئی کاموں کو آسان بنا سکتا ہے لیکن آخری فیصلہ لینا، صحیح سمت کا تعین کرنا اور پیچیدہ مسائل کو سمجھنا ابھی بھی انسان کی ذمہ داری ہے۔
مثال کے طور پر، اے آئی کوڈ لکھ سکتا ہے لیکن یہ طے کرنا کہ اس کوڈ کا استعمال کیسے ہوگا اور وہ کسی کمپنی یا معاشرے کے لیے کتنا مفید ہوگا، یہ انسان ہی طے کرتا ہے۔ اسی طرح، اے آئی ڈاکٹر کی مدد کر سکتا ہے لیکن مریض کے ساتھ بات چیت کرنا اور اس کی بیماری اور جذبات کو سمجھنا ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ اب صرف ڈگری ہونا کافی نہیں ہوگا۔ اب سب سے ضروری ہے مسلسل نئے ہنر سیکھنا۔ اس میں سوچنے کی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی قابلیت، تخلیقی سوچ اور نئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان کے لیے یہ تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا موقع بھی ہے۔ ہندوستان کی نوجوان آبادی، مضبوط ڈیجیٹل ڈھانچہ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیت اسے اے آئی دور میں پیش پیش کر سکتی ہے۔ ہندوستان نے پہلے ہی ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل ادائیگی اور آن لائن خدمات کے شعبے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اب اے آئی تعلیم، صحت، زراعت اور حکمرانی جیسے شعبوں میں بہتری لا سکتا ہے۔ اگر ہندوستان اپنے نوجوانوں کو اے آئی کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار کر لیتا ہے، تو وہ دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے اے آئی-قابل ملک بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو معاشرے میں عدم مساوات بڑھ سکتی ہے، جہاں کچھ لوگ آگے بڑھیں گے تو باقی پیچھے رہ جائیں گے۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں 30 سے زیادہ ممالک کی شرکت سے ہندوستان اس تبدیلی میں آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ سمٹ صرف ٹیکنالوجی کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ اے آئی کا فائدہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے۔ حقیقت یہ ہے کہ اے آئی کام کا اختتام نہیں ہے، بلکہ ہنرمند دور کا آغاز ہے۔
دنیش سود (مصنف او رین انٹرنیشنل کے بانی ایم ڈی)