National News

برطانوی نائب وزیر اعظم بولے - ہندوستان میں اے آئی سمٹ سے دنیا کو ملی نئی سمت، ٹیکنالوجی تعاون کو ملے گی نئی رفتار

برطانوی نائب وزیر اعظم بولے - ہندوستان میں اے آئی سمٹ سے دنیا کو ملی نئی سمت، ٹیکنالوجی تعاون کو ملے گی نئی رفتار

لندن: برطانیہ کے نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ ہندوستان میں پیر سے شروع ہونے والا AI امپیکٹ سمٹ مصنوعی ذہانت (AI) کے مکمل فوائد حاصل کرنے کا ایک اہم عالمی موقع ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق، اس سربراہی اجلاس میں برطانیہ کا فوکس اس بات پر رہے گا کہ AI کس طرح اقتصادی ترقی کو رفتار دے سکتی ہے، نئے روزگار پیدا کر سکتی ہے، عوامی خدمات کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی اور برطانیہ کے AI وزیر کنِشک نارائن کی قیادت میں برطانوی وفد یہ واضح کرے گا کہ AI ایک "تجدیدی انجن" کے طور پر کیسے کام کر سکتا ہے۔
اس کے ذریعے ڈاکٹروں کو تیز اور درست تشخیص، اساتذہ کو ذاتی نوعیت کی تعلیم، مقامی انتظامیہ کو فوری خدمات اور صنعتوں کو اگلی نسل کے بہتر روزگار پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سربراہی اجلاس سے پہلے جاری بیان میں لیمی نے کہا کہ یہ سمٹ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، جہاں ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر AI کی مکمل صلاحیت اور اس کے فوائد سامنے لانے کی سمت طے کر سکتے ہیں۔برطانیہ کے محکمہ سائنس، جدت اور ٹیکنالوجی نے ہندوستان  اور برطانیہ کو "فطری ٹیکنالوجی شراکت دار" بتایا ہے۔
محکمہ نے کہا کہ انفو سِس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور وِپرو جیسی ہندوستانی آئی ٹی بڑی کمپنیوں نے برطانیہ میں تیزی سے اپنے پھیلاؤ کو بڑھایا ہے۔ ویلز سے ہندوستانی نژاد پہلے پارلیمنٹیرین کنِشک نارائن  نے کہا،  AI ہماری نسل کی فیصلہ کن ٹیکنالوجی ہے اور ہم یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ اس کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ AI کے لیے ایک عالمی نقطہ نظر کو آگے بڑھا رہا ہے، جس سے لوگ زیادہ سیکھ سکیں، زیادہ کما سکیں اور اپنے مستقبل کو اپنی شرائط پر تشکیل دے سکیں۔ دہلی کے علاوہ، نارائن  بنگلور کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ ہندوستان-برطانیہ کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون اور جدت کے نئے مواقع کا جائزہ لیں گے۔
 



Comments


Scroll to Top