انٹرنیشنل ڈیسک: سوشل میڈیا پر آج کل فرانس کے 24 سالہ بزنس اسٹوڈنٹ میتھیو وگیئر لاتور ( Mathieu Vigier Latour )کی کہانی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ داڑھی نہ آنے کی وجہ سے وہ خود کو ادھورا محسوس کرتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ گھنی داڑھی سے ان کا چہرہ زیادہ مردانہ اور پرکشش لگے گا۔
اسی خواہش میں انہوں نے انٹرنیٹ پر بیئرڈ ٹرانسپلانٹ ان ترکی( beard transplant in ) Turkey اور چیپ بیئرڈ ٹرانسپلانٹ ان استنبول ( cheap beard transplant Istanbul ) جیسے کی ورڈز سرچ کیے اور ایک کلینک تک پہنچ گئے۔
سستی سرجری کا لالچ کیسے جال بنا
فرانس میں جہاں یہی بیئرڈ ٹرانسپلانٹ پروسیجر کافی مہنگی تھی، وہیں ترکی کے استنبول میں صرف 1300 یورو میں سرجری کا وعدہ کیا گیا۔ کلینک کی ویب سائٹ پر ترکی وزارت صحت( Turkish Ministry of Health ) کی مہر جیسی معلومات دیکھ کر انہیں بھروسہ ہو گیا۔ کم قیمت اور پرکشش اشتہار کی وجہ سے انہوں نے مارچ 2025 میں ترکی جانے کا فیصلہ کیا۔
سرجری میں کیا ہوا؟
پروسیجر کے تحت ان کے سر (scalp) سے تقریبا 4000 ہیئر گرافٹ نکال کر چہرے پر لگانے کی منصوبہ بندی تھی۔ لیکن بعد میں سامنے آیا کہ سرجری کوئی تجربہ کار ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کر رہا تھا۔
- تقریباً 1000 گرافٹ خراب ہو گئے۔
- داڑھی ٹکڑوں میں اور غیر مساوی نظر آنے لگی۔
- چہرہ پہلے سے زیادہ خراب نظر آنے لگا۔
- یہ سب میڈیکل لاپروائی کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔
بگڑتی صحت اور ذہنی اثر
سرجری کے بعد میتھیو(Mathieu ) کو انفیکشن، سوجن اور مسلسل درد کی شکایت ہونے لگی۔ فرانس واپس آنے کے بعد ان کی حالت اور خراب ہو گئی۔ ان کے والد جیکس(Jacques ) کے مطابق وہ گہرے صدمے اور شرمندگی میں ڈوب گئے تھے۔ چہرہ خراب ہونے کا اثر ان کے خود اعتمادی اور ذہنی صحت پر شدید پڑا۔ جون 2025 میں، سرجری کے تقریباً تین ماہ بعد، میتھیو (Mathieu)نے خودکشی کر لی۔ خاندان کا الزام ہے کہ ترکی میں چلنے والے کئی بغیر لائسنس اَن ریگولیٹڈ(unregulated) کلینک اور جعلی ڈاکٹر اس حادثے کے ذمہ دار ہیں۔
میڈیکل ٹورزم کا کڑوا سچ
ترکی، خاص طور پر استنبول میڈیکل ٹورزم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ہیئر ٹرانسپلانٹ( hair transplant ) اوربیئرڈ ٹرانسپلانٹ( beard transplant ) کے لیے وہاں جاتے ہیں۔ کم قیمت اور فوری نتائج کا لالچ لوگوں کو متوجہ کرتا ہے۔ لیکن کئی کلینک صحیح لائسنس اور ماہر ڈاکٹروں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ بتاتا ہے کہ سستی سرجری کبھی کبھار جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔