National News

تیل پر جنگ کے اثرات :مغربی ایشیا کی جنگ کے درمیان بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے امریکہ کی 30 دن کی چھوٹ

تیل پر جنگ کے اثرات :مغربی ایشیا کی جنگ کے درمیان بھارت کو روسی تیل خریدنے کے لیے امریکہ کی 30 دن کی چھوٹ

انٹر نیشنل ڈیسک :روس کا تیل اور گیس: امریکی وزارت خزانہ نے بھارتی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ معلومات امریکی ٹریڑری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے جمعہ (6 مارچ 2026) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر دی۔اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق یہ قدم عالمی بازار میں تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹ صرف عارضی ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اجازت صرف ان تیل کے سودوں کے لیے ہے جو پہلے سے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قلیل مدتی اقدام ایران کی طرف سے عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے کی کوششوں سے پیدا ہونے والے دباو کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔امریکی ٹریڑری سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ بھارت مستقبل میں امریکی تیل کی خریداری بڑھائے گا، کیونکہ بھارت امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔


تاہم حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے پچھلے چند مہینوں میں روسی تیل کی درآمد میں کمی کی ہے اور جنوری 2026 میں اس نے خلیجی ممالک اور امریکہ سے زیادہ تیل خریدا۔ اس سے بھارت کی مجموعی تیل درآمد میں روس کا حصہ کم ہو کر 20 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے، جو مئی 2022 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ادھر امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدہ جسے بھارت کی طرف سے سستے روسی تیل کی درآمد میں کمی کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا تھا، فی الحال تعطل کا شکار ہے۔ 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے امریکہ کے ریسپروکل ٹیرف کو منسوخ کر دیا، جس کے بعد اس تجارتی معاہدے پر غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔توانائی کی سلامتی کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہورمز سے تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو بھارت کے پاس موجود تقریباً 100 ملین بیرل خام تیل کا ذخیرہ ملک کی ضروریات کو تقریباً 40 سے 45 دن تک پورا کر سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top