انٹرنیشنل ڈیسک: کائنات کی گہرائیوں سے ایک انتہائی پراسرار اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔ زمین سے تقریباً 3,000 نوری سال دور واقع JE0705+0612 نامی ایک ستارہ اچانک اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ یہ ستارہ سائز اور نوعیت میں ہمارے سورج جیسا ہی ہے، لیکن ستمبر 2024 سے مئی 2025 کے درمیان اس کی روشنی تقریباً 40 گنا تک کم ہو گئی۔ کچھ وقت کے لیے تو ایسا محسوس ہوا جیسے ستارہ تقریباً غائب ہی ہو گیا ہو۔
بہت بڑے پراسرار بادل نے 9 ماہ تک ستارے کی روشنی روکی
جب سائنسدانوں نے چلی میں واقع جیمینی ساوتھ ٹیلی سکوپ سے اس ستارے کا مطالعہ کیا، تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔ ستارے کے سامنے ایک بہت بڑا اور گھنا بادل آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس بادل نے مسلسل 9 ماہ تک ستارے کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روکی رکھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس پورے علاقے میں گہرا اندھیرا چھا گیا۔ سائنسدانوں کے مطابق، یہ کوئی عام گرد یا گیس کا بادل نہیں ہے۔
بادل کے اندر چل رہی ہیں دھاتوں کی خطرناک ہوائیں
جب اس بادل کی گہرائی سے جانچ کی گئی، تو سائنسدان اور بھی زیادہ حیران ہو گئے۔ انہیں بادل کے اندر لوہے (Iron) اور کیلشیم (Calcium) جیسی بھاری دھاتیں ملیں، جو گیس کی شکل میں بہت تیز رفتاری سے گردش کر رہی تھیں۔ یہ پہلی بار ہے جب خلاءمیں کسی سیارے یا چھوٹے ستارے کے ارد گرد دھاتوں سے بنی ہوائیں براہِ راست ماپی گئی ہیں۔ جیمینی ٹیلی سکوپ کے جدید ترین آلات ‘GHOST’ نے واضح کر دیا کہ یہ کوئی معمولی گرد نہیں، بلکہ بخاراتی دھاتوں کا مکمل طوفان ہے۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیارے اور ستارے بننے کے اربوں سال بعد بھی ان کے ارد گرد بڑے اور تباہ کن تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔
بادل کے درمیان چھپا ہے کوئی بھاری راز
اب سائنسدانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے عظیم بادل کو آخر کون سنبھال رہا ہے؟ طبیعیات کے اصولوں کے مطابق، اتنا بڑا بادل بغیر کسی طاقتور کشش ثقل کے ٹوٹ کر بکھر جانا چاہیے تھا۔ اسی وجہ سے سائنسدانوں کو شک ہے کہ اس بادل کے مرکز میں مشتری سے کئی گنا بڑا کوئی عظیم سیارہ، یا پھر ایک ‘براو¿ن ڈوارف’ (بھورا بونا) ستارہ، یا ممکنہ طور پر کوئی چھوٹا لیکن انتہائی بھاری ستارہ موجود ہو سکتا ہے۔ جس کے گرد یہ پورا بادل یا ڈسک گردش کر رہی ہے۔ خلاء میں اتنی بھاری ساخت کا مستحکم مدار میں برقرار رہنا انتہائی نایاب اور اپنے آپ میں ایک معجزہ سمجھا جا رہا ہے۔
دو عظیم سیاروں کی شدید ٹکر سے بن سکتا ہے یہ بادل
پروفیسر نادیا اور ان کی تحقیقاتی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ پراسرار بادل کسی خوفناک سیارے کی ٹکر کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ایسے بادل نئے ستاروں کے قریب دیکھے جاتے ہیں، لیکن یہ ستارہ 2 ارب سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ امکان ہے کہ اس نظام شمسی کے بیرونی حصے میں دو عظیم سیارے آپس میں ٹکرا گئے ہوں۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ چٹانیں پگھل گئیں۔ ان میں موجود لوہا اور کیلشیم گیس میں تبدیل ہو گئے اور اب وہی ملبہ دھات سے بھرے بادل کی صورت میں خلاءمیں گردش کر رہا ہے۔
یہ واقعہ کیا سکھاتا ہے؟
یہ پراسرار واقعہ ثابت کرتا ہے کہ خلاءکبھی مستحکم نہیں ہوتا۔ پرانے اور پرسکون سمجھے جانے والے نظام شمسی میں بھی کسی بھی وقت بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں سیاروں کی ترقی، ٹکراو¿ اور تباہی کو سمجھنے میں انتہائی اہم ثابت ہوگی۔