نیویارک:نئے سال کے آغاز کے چند لمحوں بعد یہاں ایک پرانے سب وے اسٹیشن میں منعقد ایک نجی تقریب میں ظہران ممدانی نے باضابطہ طور پر نیویارک شہر کے 112ویں میئر کے طور پر حلف لیا۔کوئینز ریاست کے نمائندہ رہنے والے بھارت نژاد 34 سالہ ظہران ممدانی اب امریکہ کے سب سے بڑے شہر کے میئر بننے والے جنوبی ایشیائی نژاد اور مسلم کمیونٹی کے پہلے شخص بن گئے ہیں۔ممدانی نے پرانے سٹی ہال سب وے اسٹیشن میں ایک نجی تقریب میں حلف لیا، جس میں صرف ان کے خاندان اور قریبی مشیر موجود تھے۔یہ تقریب نئے سال کے استقبال کے وقت، نصف شب کے قریب منعقد کی گئی۔انہیں نیویارک کے 112ویں میئر اور دوسرے سب سے نوجوان میئر کے طور پر قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف دلایا گیا۔
ریاست کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے انہیں حلف دلایا۔یہ تقریب سٹی ہال پارک کے نیچے ایک شاندار، متروکہ پرانے سب وے اسٹیشن میں منعقد ہوئی، جس میں ان کی بیوی اور فنکار رما دواجی بھی موجود تھیں۔چند گھنٹوں بعد جمعرات دوپہر کو سٹی ہال کے باہر، نیویارک سٹی حکومت کے ہیڈکوارٹر میں ممدانی کا باضابطہ حلف برداری کا پروگرام منعقد کیا جائے گا، جہاں ورمونٹ کے سینٹر برنی سینڈرز نئے میئر کو حلف دلائیں گے۔بھارت نڑاد ممدانی مشہور فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی کے بیٹے ہیں۔ان کی پیدائش اور پرورش یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ہوئی اور سات سال کی عمر میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک شہر آ گئے۔ممدانی 2018 میں امریکی شہری بنےممدانی نے پہلے کہا تھا کہ ان کی حلف برداری نیویارک کے لیے ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہے، جس میں کام کرنے والے نیویارک والوں کو مرکز میں رکھا جائے گا۔
اپنے تاریخی حلف برداری مقام کے طور پر پرانے سب وے اسٹیشن کو منتخب کرنے پر 'نیویارک ٹائمز' نے ممدانی کے حوالے سے لکھا کہ جب 'اولڈ سٹی ہال اسٹیشن' پہلی بار 1904 میں کھلا تھا تو یہ نیویارک کے 28 اصل سب وے اسٹیشنز میں سے ایک تھا۔اس وقت یہایک ایسے شہر کی جسمانی علامت تھا، جس نے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایسی عظیم منصوبے قائم کیے، جنہوں نے کام کرنے والے لوگوں کی زندگی بدل دی۔انہوں نے کہا، یہ عزم صرف ہمارے ماضی کی یادوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، نہ ہی یہ صرف سٹی ہال کے نیچے کی سرنگوں تک محدود ہونا چاہیے۔

یہی مقصد ان کی انتظامیہ کا ہوگا، جسے سب وے کے اوپر واقع عمارت سے نیویارک والوں کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہوگا۔اس دوران، نیویارک پبلک لائبریری نے بدھ کو اعلان کیا کہ ممدانی نئے سال کی شب نصف شب کو ہونے والی حلف برداری میں قرآن کے 'شومبرگ سینٹر فار ریسرچ اِن بلیک کلچر' کے مجموعے سے استعمال کریں گے۔نیویارک پبلک لائبریری کے صدر اور سی ای او انتھونی ڈبلیو. مارکس نے کہا، یہ ہمارے شہر کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے اور ہمیں یہ عزت حاصل ہے کہ نئے منتخب میئر ممدانی نے حلف برداری کے لیے لائبریری کے قرآن میں سے ایک کو منتخب کیا ہے۔انہوں نے کہا،یہ خاص قرآن، جسے آرتورو شومبرگ نے تمام نیویارک والوں کے علم اور روحانی سکون کے لیے محفوظ رکھا تھا، شمولیت، نمائندگی اور شہری شعور کی ایک وسیع کہانی کی علامت ہے۔نیویارک پبلک لائبریری (این وائی پی ایل) نے آنے والی انتظامیہ کے ذریعہ قرآن کے انتخاب کو انتہائی علامتی قرار دیا۔
ممدانی نے نومبر میں ہوئے انتخابات میں فیصلہ کن اور تاریخی فتح حاصل کی تھی۔
انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کرٹس سلیوا اور سینئر رہنما اور نیویارک ریاست کے سابق گورنر اینڈریو کیومو کو ہرایا، جو ایک آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں تھے اور جنہیں انتخابات کی پیشگی رات ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔اپنی جوشیلی فتح کے خطاب میں ممدانی نے مہاجرت کے مسئلے پر ٹرمپ کو چیلنج کیا اور کہا کہ ان کی فتح ظلم اور دھن کے زور کے مقابلے میں امید کی فتح کی علامت ہے۔