آج یوم عاشورہ ہے ، یعنی محرم کا دسواں دن ۔ عاشورہ لفظی معنی دسوا دن ہوتا ہے ۔ یو تو سال کے بارہ مہینے ہر اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ عزو جل نے اپنے پورے سال کے بعض ایام کو خصوصی فضیلت بخشی ہے اور ان ایام میں کچھ مخصوص احکامات مقرر فرمائے ہیں ۔ یہ محرم کا مہینہ بھی ایک ایسا ہی مہینہ ، جس کو قرآن کریم نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ چار مہینہ حرمت والے ہیں ان میں سے ایک مہینہ محرم الحرام کا بھی ہے ۔

لفظ محرم ،' حرم سے ماخوذ ہے جس کے معنی عزت و احترام کے ہیں ۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم محرم کا احترام کرتے ہوئے اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین
عاشورہ کے روزے کی وجہ فضیلت
شریعت میں اس دن کے روزے کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ آپ ۖ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ نے دیکھا کہ مدینہ میں جو یہودی ہیں وہ اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے دریافت یا کہ یہ یہودی عاشورہ کا روزہ کیوں رکھتے ہیں تو بتایا گیا کہ یہ لوگ اس دن روزہ اس لئے رکھتے ہیں کہ اس دن اللہ نے حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو فرعو ن کے چنگل سے آزادی دی تھی ، فرعون اس روز غرق ہوا تھا تو شکرانے میں یہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔آپ ۖ نے فرمایا کہ موسیٰ سے زیادہ قریب تو ہم لوگ ہیں ان کے مقابلے میں، لہذا ہم بھی روزہ رکھیں گے اور آپ ۖ نے اس سال دس محرم الحرام (یوم عاشورہ)کا روزہ رکھا اور یہ فرمایا کہ انشاء اللہ میں اگر آئندہ زندہ رہا تو میں یہودیوں کی مخالفت میں نو محرالحرام کا روزہ بھی رکھوں گا ، تاکہ روزہ رکھنے میں ان سے مشابہت ختم ہو جائے ۔(کیونکہ وہ صرف ایک روزہ عاشورہ کا رکھتے تھے ) اس لئے بہتر ہے کہ نو اور دس محرالحرام کا روزہ رکھا جائے ۔ نہیں ہوسکے تو ان سے اختلاف رکحنے کے لیے دس اور گیارہ کا روزہ رکھا جائے ۔ بہرحال بنو اسرائیل سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے اس کے ساتھ میں ایک روزہ اور ملایا جائے ۔ تو اس دن کی یہی فضیلت ہے کہ اس دن اللہ تعالی نے مسلمانوں (بنو اسرائیل )کو حضرت موسیٰ اور ان کے ماننے والوں کو فرعون سے نجات دی ۔
اب دن کے بعد جو جو واقعات پیش آئے ان کا اس دن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔عض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جب حضرت آدم دنیا میں اترے تو وہ عاشورہ کا دن تھا اورجب حضرت نوح کی کشتی طوفان کے بعد خشکی پر اتری تو وہ دن بھی عاشورہ کا دن تھا۔ حضرت ابراہیم کو جب آگ میں ڈالا گیا اور اس آگ کو اللہ تعالی نے ان کے لئے گلزار بنادیا وہ دن بھی عاشورہ کا دن تھا اور قیامت عاشورہ کے دن قائم ہوگی ۔ اسی دن حضرت یونس علیہ اسلام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے اور ان کی قوم کی توبہ بھی قبول ہوئی- یہ باتیں لوگوں میں مشہورہیں۔ لیکن ان کی کوئی اصل اوربنیاد نہیں ہے ۔ کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ہے جویہ بیان کرتی ہو کہ یہ واقعات عاشورہ کے دن پیش آ
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عاشورہ کے دن کی فضیلت کی وجہ سے یہ ہے کہ اس میں نبی کریم ۖ کے پیارے نواسے حضرت حسین کی شہادت کا واقع پیش آیا اور اس شہادت کے پیش آنے کی وجہ سے عاشورہ کا دن مقدس اور حرمت والا بن گیا ہے ۔ یہ بات صحیح نہیں ، خود حضورۖ کے عہد مبارک میں عاشورہ کا دن مقدس سمجھا جاتا تھا اور آپ نے اس بارے میں احکام بیان فرمائے تھے کہ قرآن کریم نے اس حرمت کا اعلان فرمایا حضرت حسین کی شہادت کا واقعہ تو حضور اقد س ۖ کی وفادت کے تقریباً ساٹھ سال بعد پیش آیا تھا ۔ لہٰذا یہ بات درست نہیں کہ عاشورہ کی حرمت صرف اس واقعہ کی وجہ سے ہے ۔
حضور اکرم ۖ نے عاشورہ کے دن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ،' اگر مومن زمین بھر سونا خرچ کرے تو بھی عاشورہ کی فضیلت کو حاصل نہیں کر سکے گا ۔ اس دن ان کے لئے جنت کے آٹھویں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ جس دروازے سے چاہیں ، جنت میں داخل ہوجائیں ۔ '