انٹرنیشنل ڈیسک: اویغور حقوق کی تنظیم ورلڈ اویغور کانگرس نے جاپان کی پارلیمانی نائب وزیر خارجہ ارفیہ ایری کے خلاف چینی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مبینہ نسل پرستانہ تبصروں کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اویغور برادری کے خلاف نسلی امتیاز اور عالمی سطح پر دھمکانے کی کوشش کی مثال ہے۔
تنظیم کے مطابق تنازع 27 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب ایک چینی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ارفیہ ایری کے نسلی پس منظر کے بارے میں مبینہ توہین آمیز تبصرے کیے گئے۔
رپورٹ میں انہیں فرنٹیئر پوائزن اور ٹاکسک جیسے الفاظ سے پکارا گیا۔ بعد میں یہ تبصرے ایک چینی اخبار سے منسلک سماجی ذرائع کے اکاونٹس کے ذریعے مختصر ویڈیو شیئر کرنے والی ایک مقبول ایپ پر بھی شیئر کیے گئے جس سے آن لائن تنازع مزید بڑھ گیا۔
ارفیہ ایری کے والدین مشرقی ترکستان یعنی سنکیانگ کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا خاندان1999 میں جاپان کا شہری بنا تھا۔ سیاست میں آنے سے پہلے ایری ایک ماہر تعلیم تھیں اور اقوام متحدہ میں بطور افسر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ 2023 میں وہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر جاپان کی پارلیمان کے لیے منتخب ہوئیں اور اویغور نڑاد پہلی رہنما بنیں جو کسی قومی پارلیمان کے لیے منتخب ہوئیں۔
اس تنازع کے بعد جاپان کی حکومت نے چین کے سامنے باقاعدہ سفارتی احتجاج درج کرایا۔ جاپان نے اسے جمہوری طریقے سے منتخب نمائندے کی بے مثال توہین قرار دیا۔
ورلڈ اویغور کانگرس کے صدر ترغنجان الاودون نے کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اویغور برادری کو کس طرح کی غیر انسانی زبان اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان بازی چین کی مبینہ سرحد پار دباو کی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے جس کے تحت بیرون ملک میں بھی ایغور برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تنظیم نے جاپان کے سفارتی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ نسل پرستانہ زبان اور امتیازی سلوک کے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں۔