National News

بانکے بہاری مندر میں گوسوامیوں کے ساتھ بدسلوکی، انتظامی اہلکاروں نے مرکزی گوسوامی کے پھاڑے کپڑے ! ملک اور بیرون ملک بھکتوں میں سخت غصہ:دیکھیں ویڈیو

بانکے بہاری مندر میں گوسوامیوں کے ساتھ بدسلوکی، انتظامی اہلکاروں نے مرکزی گوسوامی کے پھاڑے کپڑے ! ملک اور بیرون ملک بھکتوں میں سخت غصہ:دیکھیں ویڈیو

انٹرنیشنل ڈیسک:اتر پردیش کے ورینداون میں عالمی شہرت یافتہ بانکے بہاری مندر میں اتوار کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درشن کے پروگرام کے دوران اس وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب انتظامی حکام نے مندر کے سیوایات گوسوامیوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انتظامی حکام نے سیوایات گوسوامیوں کو مندر سے باہر نکالنے کے لیے بدتمیزی کی اور احتجاج کرنے پر مرکزی سیوایات اننت گوسوامی کے ساتھ دھکا م±کے کی اور ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ گوسوامیوں کا الزام ہے کہ انتظامی اہلکار اچانک مندر کے احاطے میں پہنچے اور سیکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں زبردستی باہر نکالنے لگے۔ احتجاج کرنے پر مرکزی سیوایات اننت (جونی) گوسوامی کے ساتھ دھکا م±کی کی گئی اور ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے۔ الزام ہے کہ کئی سیوایات کو ایک کمرے میں بند کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔


سیوایات رجت گوسوامی نے بتایا کہ تمام گوسوامی روزانہ کی طرح مندر کی خدمت کے لیے موجود تھے اور وزیر اعلیٰ یوگی سے عام طور پر ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ ان کا نہ تو کوئی مکتوب دینے کا ارادہ تھا اور نہ ہی وہ کسی احتجاج کی تیاری میں تھے۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے ان کے خاندانوں اور خواتین کے ساتھ بھی سخت رویہ اختیار کیا۔ سیوایات سماج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بانکے بہاری مندر کوریڈور پروجیکٹ تنازع سے الگ نہیں ہے۔ طویل عرصے سے گوسوامی سماج اس تجویز کردہ کوریڈور کی مخالفت کر رہا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ یہ منصوبہ مندر کی روایتی ترتیب، سیوایات کے حقوق اور شری بانکے بہاری جی کی نجی خدمت کے نظام کو نقصان پہنچائے گا۔ سیوایات کا الزام ہے کہ انتظامیہ مسلسل دباو¿ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کوریڈور منصوبہ بغیر رضامندی کے نافذ کیا جا سکے۔

PunjabKesari
اتوار کے واقعے کو وہ اسی دباو  کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔ ورینداون کے عالمی شہرت یافتہ شری بانکے بہاری مندر میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درشن سے پہلے سیوایات گوسوامیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی خبر نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے کرشن بھکتوں کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی زائرین نے اس واقعے پر گہرا دکھ اور غصہ ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا، بھکت گروپوں اور مندر ٹرسٹوں کے ذریعے بھکتوں نے اسے عقیدت پر انتظامی حملہ قرار دیا ہے۔


غیر ملکی بھکتوں کا کہنا ہے کہ بانکے بہاری مندر صرف ایک مذہبی مقام نہیں، بلکہ بھکتی، روایت اور زندہ خدمت کی روایت کا مرکز ہے، جسے صدیوں سے گوسوامی خاندان نبھا رہا ہے۔ ایسے میں سیوایات کے ساتھ دھکا مکی، کپڑے پھاڑنے اور انہیں مندر سے باہر نکالنے کی خبریں انتہائی دکھ بھری ہیں۔
نیویارک میں رہنے والے ایک کرشن بھکت نے جذباتی پیغام میں کہا،ہم ہزاروں میل دور رہ کر بھی بانکے بہاری جی کو اپنے دل میں بسانے ہوئے ہیں۔ اگر ورینداون میں سیوایات محفوظ نہیں ہیں، تو ہماری بھکتی بھی بے بس محسوس کرتی ہے۔ یورپ کے کئی بھکت تنظیموں نے سوال اٹھایا کہ کیا بانکے بہاری مندر کوریڈور منصوبے کے نام پر مندر کی اصل روح، نجی خدمت کا نظام اور گوسوامی حقوق ختم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی ضروری ہے، لیکن یہ عقیدت کو روند کر نہیں ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی زائرین نے یہ بھی تشویش ظاہر کی کہ کوریڈور منصوبے کے سبب مندر آہستہ آہستہ ایک "منظم سیاحتی مقام" میں تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ بانکے بہاری جی کی روایت راز داری، سادگی اور بھکت اور بھگوان کے نجی تعلق پر مبنی ہے۔

PunjabKesari
برطانیہ میں موجود ایک بھکت گروپ نے اپنے بیان میں کہا،جب گوسوامی روتے ہیں، تو ورینداون کی گلیاں روتی ہیں اور جب ورینداون روتا ہے، تو دنیا کا ہر کرشن بھکت متاثر ہوتا ہے۔
اس پورے واقعے نے بین الاقوامی سطح پر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یوگی حکومت کا جدید انتظامی نظام بھارت کی روحانی وراثت کی حساسیت کو سمجھ پا رہا ہے یا نہیں۔ دنیا بھر کے بھکتوں نے ایک آواز میں اپیل کی کہ بانکے بہاری مندر میں بات چیت، احترام اور روایت کو ترجیح دی جائے، نہ کہ طاقت، خوف اور کنٹرول کو۔



Comments


Scroll to Top