National News

جنگ خطرناک موڑ پر: آبنائے ہرمز پر ایران کے سخت بیان پر بھڑکے ٹرمپ،خطے میں فوجی دستوں کی تعیناتی تیز

جنگ خطرناک موڑ پر: آبنائے ہرمز پر ایران کے سخت بیان پر بھڑکے ٹرمپ،خطے میں فوجی دستوں کی تعیناتی تیز

واشنگٹن:مغربی ایشیا میں جاری جنگ اب مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ نے بھی اپنا موقف مزید سخت کر لیا ہے۔ سفارتی کوششیں فی الحال ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراو بڑھتا جا رہا ہے۔ ایران نے اس اہم آبی راستے پر اپنے کنٹرول کو باقاعدہ شکل دینے کی سمت قدم بڑھائے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ نے خطے میں اپنے فوجی دستوں کی تعیناتی تیز کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کا جہاز یو ایس ایس ٹرپولی تقریباً 2500 فوجیوں کے ساتھ مغربی ایشیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے قریب 1000فوجی بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کی وارننگ کے لیے سائرن بجائے گئے جبکہ ابو ظہبی میں میزائل کے ملبے سے دو افراد کی موت اور تین کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ اس دوران ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں ٹول ناکہ نظام نافذ کر رہا ہے جہاں کچھ جہازوں سے محفوظ گزرنے کے لیے فیس لی جا رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ بھی اس عمل کو باقاعدہ شکل دینے پر کام کر رہی ہے جس میں جہازوں سے ادائیگی لینے کا انتظام شامل ہے۔
امریکہ کی حکمت عملی اب مزید جارحانہ دکھائی دے رہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس کی توجہ خارگ جزیرے جیسے اہم تیل ٹرمینلوں یا آبی گزرگاہ کے ارد گرد موجود اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے پر ہو سکتی ہے۔ بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اب تک ایران کے خلاف دس ہزار سے زیادہ اہداف پر حملے کر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام کو کافی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے اور اس کی بحریہ کے92 فیصد بڑے جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے تنازعے کا اثر عالمی بازار پر بھی صاف دکھائی دے رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔



Comments


Scroll to Top