Latest News

مشرقِ وسطی میں خطرے کی گھنٹی : ٹرمپ نے ایران کی طرف بھیجا دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز، اسی سے کیا تھا مادورو کا کھیل ختم

مشرقِ وسطی میں خطرے کی گھنٹی : ٹرمپ نے ایران کی طرف بھیجا دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز، اسی سے کیا تھا مادورو کا کھیل ختم

واشنگٹن: امریکہ نے مشرقِ وسطی میں اپنی فوجی موجودگی کو بے مثال سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر دنیا کا سب سے بڑا اور جدید ترین طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو مشرقِ وسطی کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔ یہ جنگی جہاز پہلے سے علاقے میں تعینات یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سپورٹ کرے گا، جس سے خلیج فارس اور آس پاس کے علاقوں میں امریکی فوجی طاقت کئی گنا بڑھ جائے گی۔
ایران کو براہِ راست انتباہ
یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کیا تھا کہ اگر جوہری معاہدے کے بارے میں امریکہ کے ساتھ کوئی ڈیل نہ ہوئی تو تہران کے لیے حالات بہت دردناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر سنجیدگی سے لایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی، لیکن قطر اور عمان کی ثالثی کے باوجود کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ اس کے بعد ہی امریکہ نے یہ بڑا فوجی قدم اٹھایا۔
یو ایس ایس فورڈ طاقت کی علامت
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو دنیا کا سب سے طاقتور طیارہ بردار جہاز مانا جاتا ہے۔ اس میں 4,500 سے زیادہ بحری اہلکار تعینات ہیں اور یہ جدید ترین لڑاکا طیاروں، گائیڈڈ میزائل نظام، نگرانی کے طیاروں اور جدید ریڈار ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ جہاز جون 2025 سے سمندر میں تعینات ہے اور اب براہِ راست مشرقِ وسطی بھیجا گیا ہے، جس سے اس کے عملے کی تعیناتی کی مدت آٹھ مہینوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ یو ایس ایس فورڈ اس سے پہلے کیریبین علاقے میں تعینات تھا، جہاں امریکہ نے اسی جنگی جہاز کی موجودگی کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر سخت دبا ؤڈالا تھا۔ اب یہی حکمتِ عملی ایران کے خلاف اختیار کی جا رہی ہے۔
علاقائی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
عرب ممالک اور علاقائی تجزیہ کاروں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطی میں کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ میں جاری اسرائیل حماس جنگ کے باعث پورا علاقہ پہلے ہی کشیدگی اور عدم استحکام سے گزر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یو ایس ایس فورڈ کی تعیناتی صرف فوجی قدم نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اور سفارتی پیغام ہے۔ امریکہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی آپشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ قدم ٹرمپ کی سخت سودے بازی کی پالیسی کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top