نئی دہلی:ہندوستان اور کینیڈا نے سال 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک بڑھانے اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہند-کینیڈا دفاعی مکالمہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے دونوں ملکوں نے اقتصادی شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے انہوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔
دونوں ملکوں نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کو انسانیت کے لیے مشترکہ اور سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے چار روزہ دورے پر آئے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ پیر کو یہاں دو طرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان میں یہ بات کہی۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا اور ہندوستان کا جمہوری اقدار پر اٹوٹ یقین ہے اور دونوں ملک تنوع کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی بھلائی ہمارا مشترکہ وڑن ہے جو ہمیں ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی تحریک دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں نے اس مشترکہ وڑن کو آگے بڑھانے اور اپنی شراکت داری کو اگلے درجے تک لے جانے کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سال 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ دونوں ملکوں نے اقتصادی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جامع اقتصادی تعاون شراکت داری کو جلد ہی حتمی شکل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کینیڈا کے پنشن فنڈز نے ہندوستان میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس سے ہندوستان کی ترقیاتی سفر میں ان کے گہرے اعتماد کا پتہ چلتا ہے۔