پریاگ راج/کیرالہ: پریاگ راج مہاکمبھ کے دوران اپنی خوبصورت آنکھوں کی وجہ سے وائرل گرل کے طور پر مشہور ہونے والی مونالیسا بھوسلے ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اس بار چرچا اس کی آنکھوں کا نہیں بلکہ اس کی نجی زندگی اور محبت کی کہانی کا ہو رہا ہے۔ خبروں کے مطابق مونالیسا نے گھر سے بھاگ کر خاندان کی مرضی کے خلاف اپنے مسلم محبوب فرمان خان سے شادی کر لی ہے اور خاندانی مخالفت کے خوف سے کیرالہ میں پولیس کی پناہ لی ہے۔
خاندان پر لگائے سنگین الزامات
مونالیسا اصل میں مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کی رہنے والی ہے۔ اس نے پولیس کو دی گئی شکایت میں بتایا کہ اس کے والد جے سنگھ بھوسلے اس کے اور فرمان کے رشتے کے خلاف ہیں اور اس پر کسی دوسرے نوجوان سے شادی کرنے کا دباو ڈال رہے تھے۔ اسی دباو اور مخالفت کی وجہ سے اس نے اپنے گھر سے دور کیرالہ میں محفوظ جگہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

فیس بک سے شروع ہوئی تھی محبت کی کہانی
مونالیسا اور مہاراشٹر کے رہنے والے فرمان خان کی ملاقات تقریباً ڈیڑھ سال پہلے فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی جس کے بعد دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوئی۔ معلومات کے مطابق مونالیسا ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں کیرالہ میں تھی جہاں وہ اپنے محبوب کے ساتھ ترواننت پورم کے تھمپن ور پولیس اسٹیشن پہنچی اور سکیورٹی کی درخواست کی۔
مونالیسا کی شکایت کے بعد پولیس نے اس کے والد کو تھانے بلایا۔ پولیس حکام نے خاندان کو سمجھایا کہ مونالیسا اٹھارہ سال کی ہو چکی ہے اور قانونی طور پر اسے یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ پولیس کی مداخلت کے بعد وہ اپنے محبوب فرمان خان کے ساتھ چلی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ مہاکمبھ میں مالا بیچنے والی مونالیسا اپنی خوبصورتی کی وجہ سے راتوں رات سوشل میڈیا پر مشہور ہو گئی تھی جس کے بعد اس نے اداکاری کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔