National News

دس میں سے ہر 5 بھارتیوں کا ویزا مسترد کر رہا ہے کینیڈا، جانیے کیا ہے اصل وجہ

دس میں سے ہر 5 بھارتیوں کا ویزا مسترد کر رہا ہے کینیڈا، جانیے کیا ہے اصل وجہ

انٹرنیشنل ڈیسک: کینیڈین حکومت کی نئی امیگریشن پالیسیوں اور اسٹڈی پرمٹوں پر لگائی گئی حد کے باعث بھارتی طلبہ کا کینیڈا جانے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں کینیڈا کی جانب سے جاری کیے جانے والے مجموعی اسٹڈی پرمٹوں میں 25 فیصد کی بڑی کمی درج کی گئی ہے، جبکہ بھارتی طلبہ کی تعداد تقریباً آدھی یعنی 50 فیصد رہ گئی ہے۔
کینیڈین امیگریشن محکمہ IRCC نے رہائشی بحران اور صحت کی سہولیات پر بڑھتے دباو کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد محدود کر دی تھی۔ اس فیصلے کے باعث 2025 میں پرمٹوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بھارتی طلبہ جو کینیڈا کے بین الاقوامی تعلیمی شعبے کا سب سے بڑا حصہ تھے، اب کینیڈا سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔ جہاں پہلے لاکھوں کی تعداد میں ویزے جاری ہوتے تھے، اب وہ تعداد گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔
بھارتی طلبہ کا کینیڈا سے دل برداشتہ ہونے کے کئی اسباب ہیں جن میں خاص طور پر پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ PGWP کے قوانین میں سختی، رہائشی اخراجات GIC کی رقم دوگنی ہونے کے باعث مالی بوجھ میں اضافہ، کینیڈا میں گھروں کے بڑھتے کرائے اور رہائش کی خراب سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تنازع کا اثر بھی ویزا عمل پر پڑ رہا ہے۔
ان سختیوں کے باعث طلبہ کینیڈا سے رخ موڑ کر اب آسٹریلیا، جرمنی اور یورپی ممالک کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب صرف وہی طلبہ کینیڈا کا ویزا حاصل کر سکیں گے جن کی پروفائل مضبوط ہو گی اور جو اچھے سرکاری کالجوں یا یونیورسٹیوں میں داخلہ لیں گے۔ نجی کالجوں کے ویزا کی کامیابی کی شرح بہت کم ہو گئی ہے۔


 



Comments


Scroll to Top