National News

تجارتی معاہدے میں ''نمستے ٹرمپ، ہاوڈی مودی'' بھاری پڑ گیا: کانگریس

تجارتی معاہدے میں ''نمستے ٹرمپ، ہاوڈی مودی'' بھاری پڑ گیا: کانگریس

نئی دہلی:کانگرس نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا جو مشترکہ بیان سامنے آیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں امریکہ کا پلڑا بھاری رہا ہے اور اس کا خمیازہ ہندوستان کے کسانوں، تاجروں اور عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
کانگریس کے شعب ابلاغ کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ابھی جاری کیے گئے امریکہ-ہندوستان مشترکہ بیان میں تفصیلات کے بارے میں کچھ بھی واضح نہیں کہا گیا ہے۔ لیکن جو باتیں اب تک سامنے آئی ہیں، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں ہندوستان کے مفادات کو پوری طرح نظرانداز کیا گیا ہے اور اس کا پورا فائدہ امریکہ کو ہی ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ہندوستان اب روس سے تیل درآمد نہیں کرے گا۔ علاوہ ازیں امریکہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر ہندوستان بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر روس سے تیل خریدتا ہے تو 25 فیصد ٹیرف کا جرمانہ دوبارہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت ہندوستانی کسانوں کی قیمت پر امریکی کسانوں کی مدد کے لیے ہندوستان درآمدی محصولات میں بڑی کمی کرے گا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ معاہدے کے بعد امریکہ سے ہندوستان کی سالانہ درآمدات تین گنا ہو جائیں گی، جس سے اشیائ کی تجارت میں ہمارا طویل عرصے سے جاری سرپلس ختم ہو جائے گا۔ امریکہ کو ہندوستان کی آئی ٹی اور دیگر خدمات کی برآمدات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی اور امریکہ کو ہندوستان کی اشیا کی برآمدات پر پہلے سے زیادہ ٹیرف ادا کرنے ہوں گے۔
کانگریس رہنما نے معاہدے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر گلے ملنے اور تصویروں کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ نمستے ٹرمپ، ہاوڈی مودی' بھاری پڑ گیا۔ دوست، دوست نہ رہا۔



Comments


Scroll to Top