لندن: برطانیہ کے مواصلاتی دفتر (آفکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس' کے گروک مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ کے خلاف فحش تصاویر بنانے کے الزامات پر پیر کو تحقیقات شروع کی۔گروک کے خلاف تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا اس نے ملک کے آن لائن سکیورٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
آزاد میڈیا نگرانی ادارے ‘آفکام' نے کہا کہ اس نے پچھلے ہفتے فوری طور پر ‘ایکس'، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، سے رابطہ کیا تھا۔ایلون مسک کی کمپنی کو یہ بتانے کے لیے 9 جنوری تک کی مہلت دی گئی تھی کہ اس نے برطانیہ میں اپنے صارفین کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔
آفکام نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی نے ڈیڈ لائن تک جواب دیا، اور ہم نے موجود شواہد کا تیزی سے جائزہ لیا۔آفکام نے کہا کہ اس نے یہ معلوم کرنے کے لیے رسمی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ کیا ‘ایکس' آن لائن سکیورٹی ایکٹ کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔آفکام کے ایک ترجمان نے کہا، “ایکس پر غیر قانونی، بغیر رضامندی کی فحش تصاویر اور بچوں کے جنسی استحصال والے مواد بنانے اور شیئر کرنے کے لیے گورک کے استعمال کی خبریں بہت تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا،پلیٹ فارم کو برطانیہ میں لوگوں کو ایسے مواد سے بچانا چاہیے جو برطانیہ میں غیر قانونی ہے، اور ہم ان جگہوں پر تحقیقات کرنے میں نہیں ہچکچائیں گے جہاں ہمیں شبہ ہے کہ کمپنیاں اپنی ذمہ داری میں ناکام ہو رہی ہیں، خاص طور پر جہاں بچوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔حکومت نے کہا کہ اسے امید ہے کہ آفکام وہ تمام قانونی اختیارات استعمال کرے گی جو برطانوی پارلیمنٹ نے اسے ایک آزاد نگرانی ادارے کے طور پر دیے ہیں۔