انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ اور ایران کے درمیان اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد اب متحدہ عرب امارات نے اس پر اپنا سخت ردِعمل دیاہے۔ یو اے ای نے صاف کہا ہے کہ صرف عارضی جنگ بندی سے امن قائم نہیں ہوگا، بلکہ ایران کو اپنے حملوں کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگ بندی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور معاہدے کی شرائط کے بارے میں مزید وضاحت چاہتا ہے۔ خاص طور پر یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایران مکمل طور پر تمام حملے بند کرے۔
یو اے ای نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی سخت مو¿قف اختیار کیا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو مکمل طور پر اور بغیر کسی شرط کے کھولا جائے، تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، گزشتہ 40 دنوں میں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں 2,800 سے زیادہ بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ ان حملوں میں توانائی کے ڈھانچے، شہری مقامات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس سے بھاری نقصان ہوا۔
یو اے ای کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے لیے ایران کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے اور اس سے نقصان کی بھرپائی بھی کروائی جانی چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا کہ جب تک ان مسائل کا حل نہیں ہوتا، اس وقت تک مستقل امن ممکن نہیں ہے۔ یو اے ای نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں ہے، لیکن اس نے تنازع کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر کافی کوششیں کی ہیں، خاص طور پر خلیجی تعاون کونسل کے ذریعے۔ ساتھ ہی، یو اے ای نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد یونائیٹڈ نیشنز سیکیورٹی کونسل 2817 (2026) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس پر مکمل عمل کرنا چاہیے، جس میں حملوں کو فوری طور پر روکنے کی بات کہی گئی ہے۔