انٹر نیشنل ڈیسک : کل تک جو امریکہ ہندوستان پر دبا ؤڈالنے کے لیے 50 فیصد تک ٹیرف لگا رہا تھا، آج وہ اچانک نرم پڑ گیا ہے۔ پیر، 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان ہوئی فون کال کے بعد، امریکی سفیر سرجیو گور کے ایک ٹویٹ"Stay Tuned..."نے پوری دنیا کی توجہ کھینچ لی۔ اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے ٹیرف میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا۔
آخر ٹرمپ کیوں جھکے؟ 3 اہم وجوہات
1. ہندوستان -یوروپی یونین ڈیل کا 'ماسٹر اسٹروک'
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے جھکنے کی سب سے بڑی وجہ ہندوستان اور یورپی یونین (EU) کے درمیان ہوا فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) ہے۔ جب ہندوستان نے یورپ کے ساتھ 'دنیا کی سب سے بڑی ٹریڈ ڈیل' سائن کی، تو امریکہ کو خوف ستانے لگا کہ وہ ہندوستان جیسے وسیع بازار میں پیچھے رہ جائے گا۔ اپنی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کے تحت ٹرمپ ہندوستان کو یورپ کے حصے میں مکمل طور پر جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

2. روس-یوکرین جنگ اور تیل کی سیاست
امریکہ کی ایک بڑی شرط یہ تھی کہ ہندوستان روس سے خام تیل خریدنا بند کرے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق، ہندوستان کی طرف سے روسی تیل کے درآمد میں 'بھاری کمی' آئی ہے۔ ٹرمپ اس ڈیل کو اپنی فتح کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کو روس سے دور کر دیا۔
3. چین کے خلاف مضبوط شراکت داری
پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس ہندوستان کو چین کے متبادل کے طور پر ایک مینوفیکچرنگ ہب بنانا چاہتے ہیں۔ دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے لیے طویل مدت تک تجارتی جنگ (Trade War) لڑنا نقصان کا سودا ثابت ہو رہا تھا۔

ڈیل کی اہم باتیں
پہلو پہلے کی صورتحال نئی ڈیل کے بعد
موثر ٹیرف فیصد50(سزاوار فیس سمیت) فیصد 18
روسی تیل بڑی مقدار میں درآمد بند کرنا درآمد پر رضامندی (دعوی)
توانائی کے متبادل روس پر انحصار امریکہ اور وینیزویلا سے خریداری
امریکی سامان زیادہ درآمدی فیس ہندوستان کی طرف سے زیرو ٹیرف کی جانب قدم