بیجنگ: چین نے تبت میں مذہبی زندگی پر کنٹرول سخت کر دیا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق، 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے مٹھوں ( خانقاہوں) میں داخلے پر مکمل پابندی اب سختی سے نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ معلومات تبت کے امور پر کام کرنے والی ویب سائٹ Phayul کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ ویڈیو میں تبت کے کھام علاقے کے ایک مٹھ ( خانقاہ)کے داخلی دروازے پر نوٹس لگا دکھائی دیا، جس میں صاف لکھا تھا-18 سال سے کم عمر بچوں کو مٹھ ( خانقاہ) میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ سختی ایسے وقت میں بڑھائی گئی ہے جب تبت کے علاقوں میں جنوری سے فروری 2026 تک سردیوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں۔ روایتی طور پر اس دوران تبت کے بچے اپنے والدین کے ساتھ زیارت اور مٹھ ( خانقاہ) کی سیر کے لیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن اب حکام نے چھٹیوں کے دوران بھی بچوں کو، چاہے وہ خاندان کے ساتھ ہوں، مٹھوں ،(خانقاہوں) میں جانے سے روک دیا ہے۔ تبت واچ کے محقق سونم ٹوبگیال کا کہنا ہے کہ یہ قدم تبت کی ثقافت کو کمزور کرنے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین نے تبت کے بچوں کے لیے جبراً بورڈنگ اسکول، خانقاہوں میں تبت کی زبان پڑھانے پر پابندی، اور چھٹیوں میں مٹھ ( خانقاہ) جانے پر پابندی جیسے اقدامات کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں بچوں کو ان کی ثقافت اور مذہبی جڑوں سے کاٹنے کی کوشش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، چین میں تبت کے بچوں کے اسکول چینی کمیونسٹ پارٹی کے یونائیٹڈ فرنٹ ورک ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں چلتے ہیں، جہاں بچوں کو نظریاتی تربیت دی جاتی ہے اور چینی زبان و شناخت اپنانے کے لیے دباوڈالا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس کا اثر صاف نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی والدین بتاتے ہیں کہ چھٹیوں میں گھر لوٹنے والے بچے اب ایک دوسرے سے چینی زبان میں بات کرتے ہیں، مٹھوں( خانقاہوں) میں جانے سے ڈرتے ہیں اور تبت کی مذہبی زندگی سے دوری محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف زبان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری تبت کی شناخت کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔