Latest News

ٹرمپ کے مشیروں کاجنگی پلان: پہلے اسرائیل ایران پر حملہ کرے، پھر امریکہ آ جائے گا ساتھ

ٹرمپ کے مشیروں کاجنگی پلان: پہلے اسرائیل ایران پر حملہ کرے، پھر امریکہ آ جائے گا ساتھ

واشنگٹن: امریکہ ایران کشیدگی کے درمیان رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے کچھ مشیر چاہتے ہیں کہ اسرائیل پہلے ایران پر حملہ کرے، پھر امریکہ حمایت دے۔ مارکو روبیو اور جے ڈی وینس نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت موقف اختیار کیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے اندر کچھ مشیران کا ماننا ہے کہ اگر اسرائیل پہلے اور اکیلے ایران پر حملہ کرے اور جوابی کارروائی میں امریکہ کو نشانہ بنایا جائے، تو امریکی عوام فوجی کارروائی کی حمایت میں متحد ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مشترکہ فوجی مہم بھی چلا سکتے ہیں۔ تاہم، اب تک کسی سرکاری حملے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
بحیر ہ عرب میں امریکی بحریہ کی جدید ہتھیاروں کے ساتھ تعیناتی نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس دوران، جوہری معاہدے کو لے لر امریکہ اور ایران کے درمیان دو ادوار کی بات چیت ہو چکی ہے، لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے الزام لگایا کہ ایران بین البر اعظمی میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بات چیت میں میزائل پروگرام بھی مرکزی مسئلہ ہوگا۔ جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر حملہ یا حکومت کی تبدیلی جیسی کارروائی ہوئی، تو ایران پورے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ خطے میں موجود امریکی اثاثے اسرائیل کی طرح کسی آہنی دفاعی نظام کے تحت نہیں ہیں، جس سے امریکی فوجیوں کی حفاظت کو لے کر سنگین خطرے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ جنیوا مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کا سرکاری موقف اب بھی سفارتی حل پر زور دیتا ہے لیکن دیگر اختیارات کھلے رکھنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔



Comments


Scroll to Top