Latest News

اس ملک کا سوشل میڈیا سے متعلق بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے فیس بک اور واٹس ایپ سمیت کئی پلیٹ فارمز پر پابندی کا اعلان

اس ملک کا سوشل میڈیا سے متعلق بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے فیس بک اور واٹس ایپ سمیت کئی پلیٹ فارمز پر پابندی کا اعلان

انٹر نیشنل ڈیسک :  اسپین کی حکومت نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے ایک بڑا اور سخت فیصلہ کیا ہے۔ اب 16  سال سے کم عمر کے بچے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے کا اعلان اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں منعقد ایک سربراہی اجلاس میں کیا۔
وزیر اعظم سانچیز نے کہا کہ یہ قدم بچوں اور نوعمروں کو انٹرنیٹ پر موجود فحش، پرتشدد اور گمراہ کن مواد سے بچانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے، جو ان کی ذہنی اور جذباتی صحت پر برا اثر ڈال رہا ہے۔
فحش اور خطرناک مواد بنا بڑی وجہ
سانچیز نے صاف کہا کہ ان کی حکومت جلد ہی اس فیصلے کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔ اس کے بعد سولہ سال سے کم عمر کا کوئی بھی بچہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکے گا اور نہ ہی پلیٹ فارم استعمال کر سکے گا۔ انہوں نے اس کے لیے براہ راست بڑی ٹیک کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے مطابق یہ کمپنیاں اپنے پلیٹ فارم پر بچوں کے جنسی استحصال سے جڑے ویڈیوز، فحش تصاویر، ڈیپ فیک  کنٹینٹ (مواد ) اور اشتعال انگیز مواد کو پھیلنے دے رہی ہیں۔ حکومت بار بار خبردار کرنے کے باوجود کمپنیوں نے مناسب اقدامات نہیں کئے ہیں۔
حکومت نے یہ فیصلہ کیوں لیا
وزیر اعظم سانچیز نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پیسہ کمانے کے لیے خطرناک مواد کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ بچے سوشل میڈیا کی وجہ سے تنہائی محسوس کر رہے ہیں۔ نوجوانوں میں اخلاقی اور سماجی اقدار کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے معاشرے اور ملک کے مستقبل پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بچوں کے مستقبل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتی، اس لیے یہ سخت قدم ضروری تھا۔
اپوزیشن نے بھی حمایت کی
اسپین میں حکومت کے اس فیصلے کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بچوں کے مفاد میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن مل کر پورے ملک میں اس قانون کے بارے میں آگاہی مہم چلائیں گے، تاکہ والدین اور اسکول بھی اسے سمجھ سکیں۔
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پابندی نافذ
اسپین سے پہلے کئی ممالک ایسے اقدامات کر چکے ہیں۔
آسٹریلیا:  16  سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی، پہلا ملک۔
ڈنمارک:  پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی۔
فرانس:  جنوری2026 میں پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کا قانون منظور، اب یہ اسکولوں میں بھی نافذ ہوگا۔
برطانیہ اور ہندوستان میں بھی بحث جاری
برطانیہ اورہندوستان  میں بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کئی سماجی تنظیمیں اور بچوں کے حقوق کے کارکن اس کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن فی الحال دونوں ملکوں میں اس پر صرف بحث ہو رہی ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top