National News

ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران کے آسمان پر امریکہ کا قبضہ، جنگ تقریباً ختم، دنیا بچ گئی

ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران کے آسمان پر امریکہ کا قبضہ، جنگ تقریباً ختم، دنیا بچ گئی

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپنے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے بارے میں ایک بہت بڑا اور متنازع دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع اب تقریباً ختم ہو چکا ہے اور امریکی فوج نے ایران کی فوجی صلاحیت کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی کارروائیوں نے ایران کی بحریہ فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اب امریکی فوج بغیر کسی خطرے کے ایران کی فضائی حدود میں پرواز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا۔ اب ان کے پاس نہ ریڈار ہے نہ فضائی حملہ روکنے والا نظام۔ کچھ بھی نہیں بچا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ چاہے تو ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے جیسے بجلی کے نظام کو ایک گھنٹے میں بند کر سکتا ہے۔ تاہم تیل اور پائپ لائن کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تاکہ طویل مدت تک عالمی اثرات نہ پڑیں۔
جوہری خطرہ ٹل گیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار مل جاتے تو وہ چوبیس گھنٹے کے اندر ان کا استعمال کر سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بی ٹو اسپرٹ بمبار طیاروں سے کیے گئے درست حملوں نے اس خطرے کو ختم کر دیا ہے۔ امریکی نائب صدر JD Vance نے بھی ٹرمپ کے بیان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں مسلسل امریکی ٹھکانوں اور سفارت خانوں کو نشانہ بنا رہی تھیں اس لیے یہ کارروائی ضروری تھی۔
پانچ ہزار پاونڈ کے بم سے حملہ۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے میزائل ٹھکانوں پر پانچ ہزار پاو¿نڈ کے گہرائی میں تباہی پھیلانے والے بم گرائے گئے۔ یہ بم زمین کے اندر بنے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے دعوو¿ں کی ابھی تک آزاد بین الاقوامی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونا آسان نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اب بھی عروج پر ہے اور حالات کسی بھی وقت مزید بگڑ سکتے ہیں۔



Comments


Scroll to Top