کولمبو: سری لنکا کے مغربی صوبے کی ایک ہائی کورٹ نے سال 2022 میں ہوئے پرتشدد مظاہروں کے دوران حکمراں جماعت کے ایک رکن پارلیمنٹ اور ان کے سکیورٹی افسر کے قتل کے معاملے میں بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ملزم بنائے گئے 41 افراد میں سے 16 کو قصوروار قرار دیا ہے۔ گمپاہا شہر کی ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے منقسم فیصلے میں 12 قصورواروں کو سزائے موت سنائی، جبکہ چار دیگر ملزمان کو معطل قید کی سزا دی گئی ہے۔
یہ معاملہ 9 مئی 2022 کا ہے، جب اس وقت کی حکمراں سری لنکا پودوجنا پیرا مونا (SLPP)پارٹی کے رکن پارلیمنٹ امرکیرتی اتھکورلے اور ان کے سکیورٹی افسر جینتھا گنوردھنا کو ہجوم نے بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔
جب رکن پارلیمنٹ اپنی گاڑی سے شمالی وسطی علاقے پولونناروا میں واقع اپنے حلقے کی طرف جا رہے تھے، تبھی راستے میں ہجوم نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور دونوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ اسی دن پورے ملک میں حالات بے قابو ہو گئے تھے۔ اس وقت کے صدر گوٹابایا راج پکشے کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پرامن مظاہرہ کر رہے لوگوں پر مبینہ طور پر حکمراں جماعت سے جڑے گروہوں نے حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد مظاہرے پرتشدد ہو گئے اور جوابی کارروائی میں حکمراں جماعت کے حامیوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس تشدد میں تقریبا 100 حکمراں رہنماؤں کے گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ملک اس وقت اپنے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا تھا۔ وسیع پیمانے پر مظاہروں کے دباؤ میں صدر گوٹابایا راج پکشے کو دو ماہ بعد عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد ہندوستانی سے ملی ہنگامی معاشی مدد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بیل آؤٹ پیکج سے ملک میں آہستہ آہستہ حالات معمول پر آئے۔ 2022 میں جب سری لنکا بے مثال معاشی بحران سے جوجھ رہا تھا، تب ہندوستان پہلا ملک تھا جس نے کھل کر مدد کا ہاتھ بڑھایا۔
ہندوستان نے تقریبا 4 ارب ڈالر کی مدد دی
ایندھن، غذائی اجناس، دواں اور ضروری اشیا ء کی فراہمی کی۔
آر بی آئی اور ایکزم بینک کے ذریعے کریڈٹ لائن دی۔
سفارتی سطح پر آئی ایم ایف سے ریلیف پیکج کی راہ آسان کی۔
ماہرین کے مطابق اگر ہندوستان کی بروقت مدد نہ ملتی تو حالات خانہ جنگی جیسے ہو سکتے تھے۔