Latest News

آسٹریلیا کے بعد یورپ کا بڑا قدم ، اب اسپین اور یونان میں بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری

آسٹریلیا کے بعد یورپ کا بڑا قدم ، اب اسپین اور یونان میں بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری

انٹرنیشنل ڈیسک: آسٹریلیا کے بعد اب اسپین اور یونان بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی پر پابندی لگا دی تھی، اور اب یورپ میں بھی اسی طرح کی سختی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ان کا ملک 16 سال سے کم عمرکے بچوں کو نقصان دہ مواد جیسے فحش نگاری اور تشدد سے بچاؤنے کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانا چاہتا ہے۔ وہیں یونان بھی 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کر سکتا ہے۔
 اسپین اور یونان کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ممالک سوشل میڈیا کو نشہ آور اور بچوں کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ مان رہے ہیں۔ یورپ میں برطانیہ اور فرانس بھی سوشل میڈیا پر سخت رویہ اپنانے کی سمت میں ہیں، جبکہ آسٹریلیا پہلے ہی اس سمت میں قدم اٹھا چکا ہے۔ اسپین کی اس تجویز پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک نے سخت ردعمل دیا۔
مسک نے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کو سوشل میڈیا پر توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کیا اور انہیں تاناشاہ قرار دیا۔ مسک نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر حملہ بتایا اور حکومت کے اس قدم کی مخالفت کی۔ حالیہ وقت میں اے آئی سے تیار کردہ مواد اور بغیر رضامندی کے جنسی تصاویر بنانے کی رپورٹوں نے سوشل میڈیا کے خطرات کو بے نقاب کیا ہے۔ خاص طور پر کم عمر افراد سے جڑے واقعات نے حکومتوں کو سخت قوانین کی طرف مائل کیا ہے۔ اس پورے تنازع میں بچوں کی سلامتی اور ڈیجیٹل آزادی کے درمیان بحث اور تیز ہو گئی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top