نیویارک: امریکہ میں57 سالہ ایک سکھ شخص کے اغوا کے چند دن بعد اس کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس شخص کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اوتار سنگھ 17 فروری کو رات تقریبا نو بجے کیلیفورنیا کے شہر ٹریسی سے لاپتہ بتائے گئے تھے۔ تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں ایک سفید ایس یو وی اور گہرے رنگ کے کپڑے پہنے تین نامعلوم افراد کو دوپہر تقریبا ڈھائی بجے سنگھ کے ساتھ دیکھا گیا۔ حکام کے مطابق ایسا محسوس ہوا کہ سنگھ اپنی مرضی کے خلاف گاڑی میں بیٹھے۔
سان جواکین کاؤنٹی شیرف آفس نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ بیس فروری کو دوپہر تقریبا 3 بج کر 20 منٹ پر ناپا کاؤنٹی کے شیرف آفس نے لیک بیریسا کے قریب ایک لاش برآمد کی، جو لاپتہ شخص کی تفصیلات سے مطابقت رکھتی تھی۔ حکام نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور اس خوفناک عمل کے ذمہ دار افراد کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شیرف آفس نے کہا کہ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ ایک الگ تھلگ واقعہ معلوم ہوتا ہے اور کمیونٹی کے لیے کسی خطرے کی اطلاع نہیں ہے۔ خبر رساں پورٹل کے سی آر اے ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق سان جواکین کاؤنٹی کے شیرف پیٹرک ویدرو نے کہا کہ اس معاملے میں ملزمان کا ارادہ سنگھ کا اغوا کر کے انہیں قتل کرنا نہیں تھا۔
ویدرو نے کہا کہ اغوا کار کسی اور شخص کو کسی خاص وجہ سے نشانہ بنا رہے تھے اور امید ہے کہ وہ وجہ سامنے آ جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تفتیش کے مفاد میں اغوا کاروں یا ان کے ممکنہ مقصد سے متعلق معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ رپورٹ کے مطابق سنگھ ایک مقامی گوردوارے میں رضاکار کے طور پر کام کرتے تھے اور وہیں احاطے میں اپنی بیوی اور تین چھوٹے بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ کمیونٹی کے رکن دیپ سنگھ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ بہت ایماندار اور محنتی تھے۔ تئیس برس تک گوردوارے میں ان کا بنیادی کردار مرکزی باورچی کا رہا، لیکن وہ صرف باورچی نہیں تھے بلکہ کئی طرح کے کام انجام دینے والے فرد تھے۔