ماسکو: روس نے واضح کیا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کے بارے میں کوئی سرکاری پیغام موصول نہیں ہوا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کو کہا کہ روس بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہر ممکن طریقے سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ پیسکوف کی یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری روکنے اور امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کو صحافیوں سے کہا، اس معاملے پر نئی دہلی کی جانب سے ہمیں ابھی تک کوئی بیان موصول نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس امریکہ-بھارت کے دو طرفہ تعلقات کا احترام کرتا ہے، لیکن بھارت-روس کے درمیان اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتا ہے۔
پیسکوف نے کہا، ہمارے لیے سب سے اہم بات بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے بڑھانا ہے اور ہم انہیں ہر ممکن طریقے سے فروغ دینا چاہتے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق، پیسکوف نے کہا کہ ماسکو کو ابھی تک بھارت کی جانب سے تیل خریدنے کی روک تھام کے بارے میں کوئی بیان یا اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ بیان بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے، جس کے تحت امریکہ نے بھارت پر لگائے گئے متقابل محصول کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے پچھلے سال بھارت پر کل 50 فیصد محصول لگایا تھا، جس میں روسی توانائی کی خریداری سے متعلق 25 فیصد محصول بھی شامل تھا۔
بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور فروری 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد وہ رعایتی روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا تھا۔ بھارت اپنی خام تیل کی تقریباً 88 فیصد ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے۔
سال 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے روس سے فاصلے کے باعث بھارت رعایتی روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن گیا تھا۔ تاہم حالیہ مہینوں میں بھارت کی روسی تیل کی درآمد میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ عراق اور سعودی عرب سے فراہمی بڑھی ہے۔ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2025 میں بھارت کی روسی تیل کی درآمد دو سال کی نچلی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ اوپیک ممالک کی حصہ داری بڑھ کر 53 فیصد سے زیادہ ہو گئی۔ اس کے باوجود روس موجودہ مالی سال میں بھارت کا سب سے بڑا تیل فراہم کنندہ بنا ہوا ہے۔
اسی دوران، کریملن نے امریکہ کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ نیو اسٹارٹ ایٹمی معاہدے کے ختم ہونے کے ساتھ دنیا ایک خطرناک دورکی طرف بڑھ رہی ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ اس معاہدے کے ختم ہونے کے بعد دنیا کی دو سب سے بڑی ایٹمی طاقتوں کے پاس ہتھیاروں کو محدود کرنے والا کوئی بنیادی دستاویز باقی نہیں رہے گا۔