انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا بھر کے کرشن بھکتوں کے عقیدت کے مرکز بھانکے بہاری مندر کو لے کر انتظامیہ کا پھر ہٹلری رویہ سامنے آیا ہے۔ اس بار مقامی انتظامیہ اور پولیس نے وزیراعلیٰ کی سکیورٹی کے نام پر بھانکے بہاری مندر کے گوسوامی سماج کے ساتھ شرمناک رویہ اپناتے ہوئے انہیں اور ان کے خاندان کو نظر بند کر دیا۔ دراصل گوسوامی سماج مندر کی انتظامیہ کے لیے بنائی گئی حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی زیادتیوں سے تنگ ہے اور آئے دن کمیٹی اور گوسوامیوں کے درمیان ٹکراو ہو رہا ہے۔

گوسوامی گھرمیں نظربند کیے
لیکن حد تو تب ہو گئی جب اتر پردیش حکومت کے وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ کے متھورا دورے کی اطلاع پر گوسوامی خاندانوں کو گھروں میں بند کر کے ان پر پولیس تعینات کر دی گئی تاکہ وہ باہر نہ نکل سکیں اور وزیراعلیٰ کے سامنے سچ بیان نہ کر سکیں۔ گوسوامی سماج نے الزام لگایا ہے کہ مندر کی انتظامیہ سے جڑے مسائل کو لے کر اتر پردیش حکومت کا رویہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ گوسوامی سماج کا کہنا ہے کہ مندر کی انتظامیہ کے لیے بنائی گئی حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کے ساتھ ان کا طویل عرصے سے ٹکراو چل رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کمیٹی کے فیصلوں اور انتظامی مداخلت سے مندر کی روایتی انتظامیہ متاثر ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ کے دورے سے پہلے نظر بندی
گوسوامی کمیونٹی کا الزام ہے کہ جیسے ہی یوگی آدیتیہ ناتھ کے متھورا دورے کی اطلاع ملی، مقامی انتظامیہ اور پولیس نے کئی گوسوامی خاندانوں کو ان کے گھروں میں ہی روک دیا۔ ان کے گھروں کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی تاکہ وہ باہر نہ نکل سکیں۔ گوسوامی سماج کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ وہ وزیراعلیٰ کے سامنے مندر سے جڑے اپنے مسائل اور شکایات نہ رکھ سکیں۔

ہم بھگوان کے سیوک ہیں، مجرم نہیں
بھانکے بہاری مندر کے چیف سِیوک اننت گوسوامی اور س±دھانشو گوسوامی نے اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گوسوامی سماج کوئی دہشت گرد یا مجرم نہیں ہے، بلکہ بھگوان کے سیوک ہیں۔ ان کے ساتھ اس طرح کا رویہ بالکل غیر مناسب ہے اور سماج اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرے گا۔ مندر کے اننت گوسوامی نے کہا کہ انہیں نظر بند کر کے مقامی افسران سچ کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کچھ افسر مبینہ طور پر زمین مافیا کے اثر میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعلیٰ کے سامنے صرف بی جے پی کے حامی ہی اپنی مشکلات بیان کر سکتے ہیں۔

حکومت بات چیت کے لیے تیار نہیں
گوسوامی سماج کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے سکیورٹی کے بہانے ان کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی۔ کچھ لوگوں نے انتظامی افسران کے غیر مہذب رویے کے بھی الزامات لگائے۔ گوسوامی سماج کا کہنا ہے کہ یہ قدم مذہبی روایات اور سیوکوں کے حقوق کی توہین ہے۔ ان واقعات کے بعد ورنداون میں گوسوامی سماج کے لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مندر کی روایات اور پجاریوں کے حقوق سے جڑے مسائل پر بغیر بات چیت کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے بات چیت کر کے حل نکالنے کی درخواست کی ہے۔

کوریڈور تنازعہ کیا ہے؟
بھانکے بہاری مندر میں ہر سال لاکھوں عقیدت مند درشن کے لیے پہنچتے ہیں۔ بھیڑ کے انتظام اور سہولیات کو بہتر بنانے کے مقصد سے اتر پردیش حکومت مندر کے ارد گرد ایک بڑا کوریڈور بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم، گوسوامی سماج کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے مندر کی روایتی انتظامیہ اور خدمتگاروں کے حقوق متاثر ہوں گے۔ اسی مسئلے کو لے کر طویل عرصے سے تنازعہ اور احتجاج جاری ہے۔
تنازعہ کیوں بڑھ رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ تنازعہ اس لیے بھی بڑا ہو رہا ہے کیونکہ ورنداون دنیا بھر میں کرشن بھکتوں کی اہم زیارت گاہ ہے۔ بیرون ملک رہنے والے لاکھوں ہندو عقیدت مند کی عقیدت بھی اس مندر سے جڑی ہے۔ ایسے میں مذہبی ورثہ اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان توازن کا مسئلہ اب قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ بحث ہو سکتا ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کئی مذہبی رہنماوں اور سماجی تنظیموں نے انتظامیہ اور گوسوامی سماج کے درمیان بات چیت کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بات چیت کے ذریعے ہی ایسا حل نکالا جا سکتا ہے جس سے عقیدت مندوں کی سہولت بھی بڑھے اور مندر کی روایات بھی محفوظ رہیں۔