انٹرنیشنل ڈیسک: نیپال میں وزیر اعظم بالن شاہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جنریشن زیڈ تحریک میں مارے گئے 27 طلباء کے خاندانوں کو سرکاری نوکری دینے کے اعلان پر عمل درآمد کر دیا ہے۔ 8 ستمبر کو ہونے والی اس تحریک کے دوران پولیس فائرنگ میں 19 طلباء موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ جبکہ 8 طلبا بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں غصہ پھیل گیا تھا اور حکومت پر مسلسل دباو بڑھ رہا تھا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد بالن شاہ نے اپنی پہلی کابینہ میٹنگ میں اس مسئلے کو ترجیح دی۔ میٹنگ میں طے کیا گیا کہ تمام متاثرہ خاندانوں کو سرکاری نوکری دی جائے گی تاکہ انہیں معاشی سہارا مل سکے۔

اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی نے 27 اہل خانہ کی فہرست جاری کی ہے۔ ان لوگوں کو ان کی اہلیت کے مطابق انہی کے اضلاع میں نوکری دی جائے گی۔ حکومت نے کہا ہے کہ منتخب کیے گئے اہل خانہ کو 35 دن کے اندر اپنے رشتے کا ثبوت دینا ہوگا۔ جس کے بعد انہیں تقرری دی جائے گی۔ یہ قدم اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حکومت نے انتخاب کے دوران کیا گیا وعدہ جلد پورا کیا ہے۔ تاہم اپوزیشن اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صرف نوکری دینا کافی نہیں بلکہ واقعے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی بھی ضروری ہے۔