اسلام آباد: پاکستان نے اتوار کو کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں مدد کرنے کا کام جاری رکھے گا اور اس نے دونوں فریقوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے ختم ہونے کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئی دور کی ”گہری اور بامعنی“ گفتگو میں ثالثی کی۔ انہوں نے کہا، ”میں نے دفاعی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کے درمیان کئی دور کی گہری اور تعمیری بات چیت میں ثالثی کی، جو 24 گھنٹے جاری رہی اور آج صبح ختم ہوئی۔
مذاکرات میں پیش رفت کی امید ظاہر کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ مستقل امن اور علاقائی استحکام حاصل کرنے کے لیے دونوں فریقوں کو مثبت رویہ برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ”یہ ضروری ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں۔“ ڈار نے کہا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔“ ڈار نے دونوں فریقوں کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے اور پاکستان کے ثالثی کردار کو تسلیم کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست بات چیت تھی جس پر دنیا بھر کی نظریں تھیں۔ ایرانی وفد پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں جمعہ کی رات اسلام آباد پہنچا، جبکہ امریکی وفد ہفتے کی صبح پہنچا، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے۔ امریکی وفد میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مغربی ایشیا کے ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں، جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔