Latest News

اب اس ملک میں ہندوستانی کو '' ڈاگ '' بول کر توڑی ناک، کہا- جہاں سے آئے ہو ، واپس لوٹ جاؤ

اب اس ملک میں ہندوستانی کو '' ڈاگ '' بول کر توڑی ناک، کہا- جہاں سے آئے ہو ، واپس لوٹ جاؤ

انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا میں لوگ اچھے اور شاندار طرز زندگی میں جینے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ وہ اس کے لیے بیرون ملک بھی جاتے ہیں اور وہاں نوکری یا کاروبار کے ذریعے بھاری رقم کماتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اپنی خواہشات کو پورا بھی کر پاتے ہیں۔
ہندوستانی بھی اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاتے ہیں، لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہندوستانی بیرون ملک کتنے محفوظ ہیں۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے، کیونکہ حال ہی میں آسٹریلیا کے شہر جلونگ کے کوریو علاقے میں 22 سالہ سکھ نرس ہرمن پریت سنگھ پرمبینہ طور پر نسلی حملہ ہوا۔ یہ واقعہ ایک جِم کے باہر پیش آیا، جہاں تین لوگوں نے انہیں تنگ کیا، جبکہ وہ اپنے کام میں مصروف تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہرمن پریت سنگھ جِم میں ورزش کر رہا تھا  ، تبھی تین لوگوں نے انہیں نشانہ بنانا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جِم سے باہر نکلا  تو وہ لوگ باہر انتظار کر رہے تھے۔ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک بھاری بھرکم گورا شخص، جس نے سفید ٹی شرٹ اور بیج رنگ کی پینٹ پہنی تھی، سنگھ کو 'انڈین ڈاگ ' کہہ کر گالی دے رہا تھا اور بدتمیزی کر رہا تھا۔ سنگھ نے بتایا، وہ میرے بہت قریب آیا اور پھر پیچھے ہٹ کر اپنا سر میری ناک پر مارا۔ میری ناک سے فوراً خون بہنے لگا۔
حملے کے بعد ملزم گرے رنگ کی گاڑی میں وہاں سے فرار ہو گئے۔ سنگھ کو ہسپتال داخل کرایا گیا اور انہیں پوری رات وہاں رہنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، انہیں اب ایک ماہر ڈاکٹر کو دکھانا ہوگا اور سرجری کرانے کا آپشن بھی سوچنا پڑ سکتا ہے۔ انہیں ایک ہفتے بعد ہسپتال سے چھٹی ملنے کی توقع ہے۔ سنگھ نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں جب انہیں نسلی تبصروں کا سامنا ہوا، لیکن اس واقعے نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا، میں خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور ایسی باتوں کو نظرانداز کرتا ہوں، لیکن یہ بہت دکھ دیتا ہے۔ انہوں نے آگے کہا، مجھے نہیں معلوم کہ میں دوبارہ اسی جِم میں جاؤں گا یا اپنا وقت بدلوں گا۔ اب میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہوں۔ سنگھ کی بہن خوشی کور نے کہا کہ اس واقعے سے خاندان بہت دکھ ہے  اور خوفزدہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں سڈنی کے بونڈی بیچ پر ایک اجتماعی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں یہودی تہوار حنوکہ کے دوران 15 افراد ہلاک ہوئے۔ فائرنگ میں شامل دو ملزموں میں سے ایک حیدرآباد کا رہائشی تھا اور اس کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ تھا، حالانکہ وہ تقریباً 30 سال پہلے آسٹریلیا میں آباد ہو گیا تھا۔
 



Comments


Scroll to Top