انٹر نیشنل ڈیسک: روس نے ہفتہ کی علی الصبح یوکرین پر رات بھر270 سے زیاد ہ ڈرون داغے جس سے ملک کے کئی حصوں میں بھاری تباہی ہوئی اور کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حالیہ دنوں کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک تھا۔ یوکرین کی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے کل 273 ڈرون چھوڑے جن میں سے252 ڈرون یا تو مار گرائے گئے یا برقی رکاوٹ کے ذریعے ناکارہ بنا دیے گئے۔
بحیرہ اسود کے اہم بندرگاہی شہر اوڈیسا میں ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے اور کم از کم گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں زچگی کے ہسپتال، نجی گھروں ،بندرگاہ کے علاقے اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ یوکرین کے صدر وولودی میر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس حملے کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا اور اسے عام شہری زندگی کے خلاف دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ اسی دوران زیلینسکی نے بغیر پیشگی اعلان کے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایرانی ڈرون حملوں خلیجی علاقے کی سلامتی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسے مسائل پر بات چیت ہوئی۔
زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین اپنی ڈرونز کے خلاف دفاعی ٹیکنالوجی اور جنگ میں حاصل کیے گئے تجربے کو متحدہ عرب امارات سعودی عرب قطر کویت اور اردن جیسے ممالک کی مدد کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ ایرانی ڈرون حملوں سے بچاو کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کے بدلے میں یوکرین خلیجی ممالک سے جدید فضائی دفاعی میزائل نظام حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ روس کے مسلسل بڑھتے ہوئے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔